×

مغوی بلوچ اور فریق عدالتیں تحریر ۔ سعید یوسف بلوچ ( بشکریہ روزنامہ استمان کوئٹہ اپریل 2009

مغوی بلوچ اور فریق عدالتیں تحریر ۔ سعید یوسف بلوچ ( بشکریہ روزنامہ استمان کوئٹہ اپریل 2009

اس سے انکار یا اسے رد نہیں کیا جا سکتا کہ جدوجہد کا سطح وسیع اور بلند ہے عوام میں بیداری کا تناسب کہیں ذیادہ ہیں جہا ں ہزاروں لاکھوں نظریاتی کارکن آزادی کے فلسفہ کا پرچار کرنے والے اپنا فرض نبھارہے ہیں جو انقلاب اور تبدیلی کی علامت ہے ۔سماج ، اکتاہٹ، بے راہ روی ، کاہلی اور رد جدوجہد سے نکل کر جدوجہد کی جانب گامزن ہیں تاہم جو چیزیں فکری طور پرآزاد ی کی جدوجہد کیلئے ضروری ہوتی ہیں ان کو براہ راست جدوجہد کے بیچ عوام کے سامنے لانا ان کا سائنسی تنا ظر ہے آزادی کے لئے جو قربانی دینی پڑتی ہے جن سختیوں تکلیفون اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جن چیلنجزسے سامنا ہوتا ہے اس سے بڑھ کر ریاست اور اس کے اداروں کو چیلنج کرنا جدوجہد کا نقطہ نگاہ اور سائنس ہوتا ہے اگر ہم جدوجہد کے دوران ان کے بنیادی تقاضوں اور ضروریات سے آنکھ بچاکرجدوجہد کے اندر ایک قسم کی سطحی طریقہ کاراور اندھا دھندماحول پیداکرنے کی کوشش کرے یا جانتے ہوئے بھی اسے جدوجہد سے بالاتر ایک مجبوری سمجھیں یا اپنے دکھ اور کرب کاعلاج اس میں تلاش کرنے کی کوشش کریں

یہ لاشعوری طور پر جدوجہد کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے آذادی حاصل کرنے کیلئے جان کی قیمت پر برسر پیکار ہونا درکار ہوتا ہے غلامی کی جبر کی ہررکاوٹوں کے باوجود جدوجہد کے اندر اپنی موقف سے متصادم طریقہ کار کو اپنی جدوجہد کا حصہ نہ بنائیں ایسے مصلحتیں اور عوامل جو جدوجہد کو الجھانے کی باعث بنتی ہیں ان کی جانچ رکھنا ان کادرست معیار ، سمت ،اور توازن رکھنا جدوجہد میں شامل ایک لکھنے والے بلوچ کی فرض میں شامل ہوتا ہے لکھنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تقلید کرنے کے بجائے جدوجہد کی تخلیقی اور ارتقائی پہلوں کو سمیٹیں اور اس پر بحث کریں لیکن ہمارے ہان بدقسمتی کہیں یا کوئی اور نام دیں ہم جدوجہد کے لئے بنیادی چیزون کواہمیت دینے کے بجائے ثانوی معاملات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا اس سطح سے بھی نیچے نادانی میں جدجہد کا تاثر نہیں دیتے بلکہ خود کو ایک عام شہری کی جدوجہد یا پھر اخلاقی صورت میں ریاست کے عدالتوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔جب ریاست کے خفیہ ادارے جدوجہد کی پاداش میں جدوجہد میں شامل افراد کو اغواہ کرتے ہیں انہیں جس انداز سے زیر زمین ٹارچر سیلوں میں اذیت کا نشانہ بناتے ہیں سالون تک اغواء کرتے ہیں یا پھر ان کی لاش مسخ کرکے کرتے ہیں اور پھر ان کے ادارے پارلیمنٹ سمیت انکی عدالتیں ان کی اس اغواء نما اقدام کو تحفظ دیتی ہے ان کی پارلیمنٹ دبے لفظوں میں اس کی مزمت نہیں کرتی بلکہ یہ اس پروپیگنڈہ پر توجہ دیتے ہیں کہ کس طرح ان کی کردار کشی جا ئے اور کس طرح لڑنے والے بلوچ کو ایک غیر زمہ دار اور دہشت گرد پیش کریں ۔تواس کردار کشی کے باوجود بھی کہ جو عدالتیں ہمیں دھتکارتی ہے اور جو ججز ہماری مزاق اڑاتی ہے اور ہم ان عدالتوں سے انصاف مانگتے پھرتے ہیں جو فریق عدالتیں ہیں جن بنچوں پر جن ججز کے سامنے ہم اپنا مقدمہ لڑتے ہیں وہ ثالث نہیں فریق ججز ہے نادانی میں ہم اپنی سماجی حیثیت کا ادراک کئے بغیر خود کو اور ان عدالتوں کو لازم وملزوم سمجھ کر ان سے انصاف کی توقع کی رکھتے ہیں ان کی چھوکٹ پر امید اور آس کی سانس لیتے ہیں ان کے سٹامپ پیپر پر اپنا مقدمہ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں اپنی دوست بہادر ساتھیوں کی تلاش میں ان کی دروازہ کٹکٹھاتے ہیں ایک فریق مجسٹریٹ کی میز پر ہماری اس جانثار کی فائل پڑی رہتی ہے جس میں ہم ان کو پرامن ، شریف النفس،نہتے اور کئی دیگر ناموں سے پہچان کرواتے ہیں لیکن کیا
ہماری یہ شناخت اس شناخت پر کاری ضرب نہیں ہے کہ جس میں وہ جہد کار ہے ،انقلابی ہے آزادی کا محافظ اور قومی سپاہی ہے لیکن اس کے باوجود جب اسے ریاست اٹھا کر لے جاتی ہے توہم اسے اور اس کی کردار کو جنگ سے الگ کرتے ہیں نادانی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ جدوجہد کرنے والون سے نہیں ہے بلکہ اسے جنگ سے الگ کرکے ایک عام شہری اور نہتے ثابت کرتے ہیں وقتی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس طرح مغوی فرزندون کی سزا کو جزامیں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں یا ہماری اس عمل سے انہیں کوئی رعایت مل رہی ہے لیکن ہم غلطی پر ہے ہماری اس اقدام سے انہیں رعایت نہیں ملتی ان کی اذیت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا ان کی تفتیش کا دائرہ کار ختم نہیں ہوتاوہ ان بہادرفرزندوں کو زمین دوز تہہ خانوں سے نکال کر ان سے سورج کی روشنی آشکار نہیں کرتا؟یہ عدالتیں اور ہماری منتوں سے کتنے لوگ بازیاب ہوئے ہیں کیا جو ہمارے خون کو نچوڑے اس سے یہ توقع کیا جاسکتاہے کہ وہ ہمارے آنسو پونچھے ۔ ایسا قطعا نہیں ہوسکتا اگر یہ عدالتوں میں اتنی سکت اور اہلیت ہوتی تو ایک پیشی سے واپسی کے بعدچیرمین غلام محمد بلوچ ساتھیوں سمیت ایک وکیل کے دفتر سے اغواء نہیں ہوتا یا اتنے سالوں میں جب ہم ان عدالتوں کو اپنی دادرسی کے لئے پکارتی ہے ان سے توقع رکھتی ہے’’ ماورائے عدالت‘‘ اغواؤں کا سلسلہ روکنے کے لئے اس قسم کے کیس کے پیروی کے لئے ایک وکیل کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہ اغواؤں کی شدت میں کمی نہیں آتی ،اس کا سلسلہ نہیں رکتا؟ کیا ہم نادانی میں ریاست کی اس پروپیگنڈہ کو جواز فراہم نہیں کررہے ہیں جو کئی سالون سے ہمیں دہشت گرد اور کرائمنل پکار کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالتی ہے اور ہم صفائیان پیش کرکے کہتے ہیں کہ ہم نہتے اور عام وپرامن شہری ہے اب دنیا کو بتانا ہوگا کہ ہمارااسیر پاکستانی دہشت گرد نہیں بلکہ جنگی قیدی ہے بلوچ اپنی دانست اور اپنی جدوجہدمیں کسی قسم کا گناہ یا جرم نہیں کررہا بلکہ آزادی کی جدوجہد کررہی ہے
اور اس وقت ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے جدوجہد کایہ عمل تکلیف دہ ضرور ہے لیکن آزادی کے راستہ پر چلنے والون کو قربانی دینی پڑتی ہے جنگ ثابت کرنی پڑتی ہے سردار مری کا کہنا ہے کہ جیلون کو بھردیں کیا فرق پڑتا ہے کہ جب آدھی سے زیادہ آبادی جیلوں میں ہوگا یہ انہیں کتنے دنوں تک رکھے گا کتنوں کو روٹی کھلائے گا؟ سول نا فرمانی کرو پنجابی سےؓ ٰٓٗبائیکاٹ کرو ان کی ملون کا کپڑا نہ خریدو وہ دانہ گندم نہ کھاؤجو پنجاب کی سرزمین پر اگی ہو
تو ہم کیوں اس ریاست کے خلاف ہاتھ پھیلاتے ہیں جس کے خلاف ہمارےجانثار سپوت جہد کررہے ہیں ہم کیوں ان فریق عدالتوں کو جواب دہ ہوتے ہیں کیوں ہم ان کی نام نہاد ’’قانون‘‘کے تحت اپنا مقدمہ لڑنے کی کوشش کرتے ہیں کیا ہماری ریڈیکلائز یشن یہی ہے کہ جس کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ان سے انصاف مانگتا پھرے پھر کیا یہ جدوجہد کا منافی نہیں ہے یہ ہمیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جدوجہد کی کامیابی ریاستی عدالتوں میں پیروی اور مصلحتوں سے نہیں جدوجہد کی اپنی تکلیف دہ اور خون آلود چوٹی پر ملتی ہے ہم اپنی سوچ میںیکسانیت ، سختی، تنظیم ، اور جرائت پیدا کرین او ر ان تضادات کا ادراک کریں اور اس سے آگے جدوجہد میں دو قدم آگے کی سوچیں۔ اپنی معمولی مجبوری اور وقتی تکلیف کوجدوجہد کی کمزورینہ بنائیں اور ہم ریاست کے تمام اداروں کی صداقت سے مکمل انکار کرکے بین الاقوامی انسانی حقوق کی ادارون انٹرنیشنل کمیونٹی اور اقوام متحدہ کا توجہ اس طرف مبذول کرائین اپنی احتجاجون میں ’’ماورائے عدالت‘‘ کالفظ استعمال
کرنے کے بجائے اپنی احتجاجوں کی زریعہ اپنی موقف میں سختی پیدا کرکے ریاست اور ان کے تمام اداروں کی صداقت سے مکمل انکا ر کرکے واضح کریں کہ ہماری جدوجہد قومی آذادی کا واضح پس منظر رکھتی ہے اور ہزاروں بلوچ جو اس فکر وعمل سے وابسطگی کے بناء پر پاکستانی حساس اداروں کے تحویل میں ہیں جنہیں حساس اداروں کے اہلکار شدید ذہنی اورجسمانی اذیت پہنچاتے ہیں قلی کیمپ اور دیگر ٹارچر سیلوں میں ہزاروں لاپتہ بلوچ اس وقت بھی حساس اداروں کی تفتیش اور اذیت کا شکار ہے ان سب کو اس فکر اور جدوجہد سے وابسطگی کی بنیادپر اغواکیا گیا ہے پاکستان جو اس وقت بلوچ جدوجہد کے حوالہ سے غلط فہمیاں پیدا کرکے بلوچ جدوجہد کو دہشت گردی کا نام دینے کے لئے مہذب دنیا کے سامنے بلوچ جدوجہد کے حوالہ سے فکری آلودگی پیدا کرنے کوشش کر رہے ہیں جبکہ بلوچ جدوجہد کا سیاسی پس منظر ہے جو بلوچ آزادی کے مطالبہ پر مبنی ہے اور بلو چ جو اس وقت اپنی دانست میں تشدد یا دہشت پیدا نہیں کررہا بلکہ ریاستی تشدد کا راستہ روکنے کیلئے counter violance کا حق استعمال کررہی ہے اور اگرکوئی counter violance کو دہشت گردی کہتا ہے تو میرے خیال میں یہ اس کے لغوی معنی کے ساتھ بھی سراسر ظلم ہوگا اس صورت میں وہ جج بھی قاتل ہوگاجو کسی مجرم کو اس کی جرم کی بنیاد پر پھانسی کی سزا سناتاہے
جو الزام پاکستان اور اس کے پشت پناہ افراد بلوچ جدوجہد پر عائد کرتے ہیں الزام کی اس صحت سے ہمیں انکا ر ہے ہماری جدوجہد کا صحیح نام پکاراجائے اور جس قسم کی الزام ہماری جدوجہد سے وابسطہ افراد پر لگایا جاتا ہے وہ نام نہاد اور بے بنیاد ہے اور پاکستانی عدالتوں کے اندر ان کی پیروی کرنا اور صفائی پیش کرنا نہ صرف بے معنی ہے بلکہ ہماری موقف کی توہین ہے لہذا عالمی عدالت انصاف کے زریعہ اس فکر سے وابسطہ اغواہ شدہ اور گرفتار شدہ بلوچ اسیران کا اوپن ٹرائل کیا جائے تاکہ وہ اپنی جدوجہد کا پس منظر دنیا کو بتاسکیں اور دنیا کو یہ بتائیں کہ آزادی کی جدوجہد کرنے والون کا پاکستانی خفیہ ادارے کیا حشر کرتے ہیں اور دنیا کو یہ بتاسکین کہ پاکستانی قلی کیمپ جیسے اذیت خانوں کو ابو غریب جیل اور گوانتانا موبے جیسے اذیت خانون سے بھی زیادہ نفرت کی نگاہ سے دیکھیں کہ ان ٹارچر سیلوں میں بلوچ قوم سے ان سے بدتر سلوک کی جاتی ہے
اس سلسلے میں بلوچ وکیل کو اپنا کردار کا تعین کرنا ہوگاجو ایک طرف آزادی کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف ان کی عدالتون کو مضبوط کرتاہے ان کی عدالتی کاروایئوں پر ایمان رکھتا ہے ایک بلوچ قیدی کی ضمانت کروانے کو اپنے کل زمہ داری سمجھ کرخود کو جدوجہد سے بری الذمہ سمجھتی ہے میں سمجھتاہوں کہ وہ آگے بڑھیں اوربین الاقوامی قانوں و انصاف کی اہمیت پر زور دین وہ پاکستانی عدالتون کے اندر ہماری پیروی نہ کرین بلکہ وہ جدوجہد کے فورم پر ہماری پیروی کرین عالمی عدالت و انصاف کے زریعہ ایک بلوچ کی اوپن ٹرائل کی اہمیت کو اجاگر کرین وہ قانون دان ہیں وہ قانون کا علم رکھتاہے تو جدوجہد کا بین الاقوامی قانونی حیثیت اجاگر کرین اس وکیل کا قانون پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہماری قانونی رہنمائی کرنے کی بجائے ہماری دامن ریاستی قوانیں میں پیوست کرین ایک بلوچ وکیل کو چاہیے کہ وہ پاکستانی عدالتوں میں ضمانتیں لگوانے کے بجائے عالمی عدالت وانصاف کا دروازہ کٹکھٹائیں ایک قانون پڑھنے والے کی حیثیت سے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو جدو جہد کی قانونی تقاضوں سے آگاہ کرین جو ان کا چارٹر ہے منشور ہے مینو فیسٹو ہے اور دنیا ک
بتادے کہ ہمیں یہ صورت قطعا قابل قبول نہیں ہے جس میں ہمیں غلام بنایا گیا ہے یہ غیر قانونی اور غیر انسانی نظام ہے جس کی ساتھ ہماری دامن باندھا گیا ہے ہماری آزادی سلب کی گئی ہے ہماری زندگی اور سوچ میں سرایت کرنے والے یہ ججزاور جرنیلزہماری فکر ہماری ترقی ہماری سوچ ہماری زبا ن ہماری تہذیب راویات ،اخلاقیات، ادب سائنس تعلیم سماجی اور قومی آذای کو اپنے قبضے میں کرکے یہ ہمیں اپنی اطاعت اور غلامی کی بیڑیان پہننے کے لے تششدد کا نشانہ بنارہی ہے ہمارے وکیل کو اپنی کردار کاتعین کرنا ہوگا اسے دوہراہ معیار چھوڑنا ہوگا اسے بلوچ آزادی کی قانونی جنگ لڑنا ہوگا اگر وہ آزادی کی بات کرتا ہے
اور دوسری جانب ان کی کورٹ کو مظبوط کرتا ہے کیا یہ دوہرامعیار نہیں ہے کیا اسے یہ محسوسں نہیں ہوتا کہ اسے قد م قدم پر ریاستی قوانین اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیا اس عمل سے اس کی روح اور سوچ کو اذیت نہیں ملتا ہمارے وکیل کو صرف بلوچ وکیل بننا چاہیے بلوچ آزادی کا مقدمہ لڑنا چاہیے اور اس سلسلے میں بلوچ وکیل کو اپنی زمہ داری کا احسا س کرنا ہوگا کیا آزادی محض ایک خیال ہے تصور ہے کہ ہم خیال میں تو آزادی مانگتے ہیں اور عمل میں اس سے متصادم ہے ۔ پر اسراریت کا یہ ماحول کیوں؟ اسٹیجوں پہ تو ہم اپنی تقریرون میں شعلہ پیدا کرتے ہیں اور عدالتون میں آکر ہماری ریڈیکلائزیشن جھاگ کی طرح بھیٹتی ہے ہم ان ججز کے ساتھ گھل ملتے ہیں جو ایک غیر قانونی نظام کو تحفظ دینے کے لئے بھیٹے ہوتے ہیں اور اس غیر قانونی جبر و استحصال کے نظام کو نام و نہاد قانونی تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہیں ہمارا وکیل کہان کھڑاہے؟ وہ اس آزادی کی قانونی جدوجہد کو کیوں قانونی تحفظدینے سے قاصر ہے ایک بلوچ وکیل کو جدوجہد کے اندر اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنا ہوگاہمارے وکیل کو لینن اورنیلسن منڈیلا کا کردار ادا کرنا ہوگا