×

نواب خیربخش مری ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے، وہ سوچ جس نے ہمیں آزادی کا سوچ دیا،اور اپنے اس شناخت کو پانے اور اسے قائم رکھنے کا راستہ صرف آزادی ہے ۔میر حیر بیار مری

نواب خیربخش مری ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے، وہ سوچ جس نے ہمیں آزادی کا سوچ دیا،اور اپنے اس شناخت کو پانے اور اسے قائم رکھنے کا راستہ صرف آزادی ہے ۔میر حیر بیار مری

26.6.2014
بلوچ قوم دوست رہنماء حیربیار مری نے اپنے پیغام میں کہا کہ نواب خیربخش مری ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور فکر کا نام ہے، وہ سوچ جس نے ہمیں آزادی کا سوچ دیا ، جس نے ہمیں ظلم و جبرسے مصلحت نا کرنا سکھایا ، جس نے جدید بلوچ اجوئی سیاست کی داغ بیل ڈالی والد محترم کی بلوچ تحریک میں ہمہ گیر کردار کو کوئی بھی فراموش نہیں کرسکتا ۔آج ہمیں قوم دوست رہنما نواب خیر بخش مری کے آزادی کے اسی سوچ کو آگے لیجانا ہے اور اسے پروان چڑھا کر حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔ ہماری شناخت پاکستانی و ایرانی نہیں بلکہ بلوچ ہے اور اپنے اس شناخت کو پانے اور اسے قائم رکھنے کا راستہ صرف آزادی ہے ۔آج آزادی کیلئے جو جدو جہد کر رہے ہیں وہی اپنے لہو اور محنت سے تاریخ لکھ رہے ہیں

اور تاریخ میں صرف وہی زندہ رہیں گے ان کا نام ہمیشہ تاریخ کے پرنوں پر سنہرے الفاظ میں رقم ہوگی، لیکن جو تاریخ کے اس دھارا کے خلاف جاتے ہیں ، قومی مقصد کے سے ہٹ کر روش اختیار کرتے ہیں اور آزادی کے سامنے رکاوٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں تاریخ بھی ہمیشہ کیلئے انہیں فراموش کردیتی ہے بلکہ ان کے نسلیں تک ان کے نسبت کو اپنے لیئے موزوں نہیں سمجھتے اور ان کانام اپنے نام کے ساتھ جوڑنے تک سے اجتناب کرتے ہیں ۔ آج جعفر و صادق ہوں یا بنگلہ دیش میں مقیم بہاری ان کی نسلیں اپنا نام اپنے آباء سے جوڑنے سے کتراتی ہے۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ اگر کبھی تاریخ میں آتا بھی ہے تو صرف عبرت کیلئے، آج وقت نے یہ فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے کہ آیا ہم تاریخ میں زندہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں گم ہوکر اپنا شناخت کھودیتے ہیں ۔ آج قوم یکمشت ہوکر نواب مری کے آزادی کے سوچ پر کاربند ہوتے ہوئے اس آزادی کے کاروان میں شامل ہوکر اسے اس کے منزل مقصود تک پہنچائیں ۔ہمیں یکجہتی اور قومی سوچ کو خلوص کے ساتھ پروان چڑھانے کیلئے مکمل آزادی کو ہدف بنانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح نواب خیربخش مری نے انفرادیت کو مسترد کرکے ایک قومی سوچ کو اپنایا اسی طرح نواب مری کے وارث صرف اسکا خاندان نہیں بلکہ پوری قوم ہے اس کے پسماندگان میں پوری قوم شامل ہے، گوکہ آج نواب مری ہم سے جسمانی طور پر جدا ہوگئے ہیں لیکن انکا دیا ہوا آزادی کا سوچ آج بھی ہمارے ساتھ ہے جونواب مری کو ہم سے کبھی دور ہونے نہیں دے گا ، جب تک بلوچ قوم اپنی آزادی کے جہد میں مصروف عمل ہوگی نواب خیربخش مری اس آزادی کے سوچ کی صورت میں ہمارے ساتھ ہوں گے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں نواب مری اپنے آزادی کے سوچ کو چھوڑ کر ہم سے جدا ہوئے ہم وہیں سے انکا سوچ مزید آگے بڑھائیں ، اس میں مزید جدت اور وقعت پیدا کرکے بلوچ قومی آزادی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں ۔

Previous post

مغربی بلوچستان آزادی کے لئے شہید مالک ریکی اور ان کے خاندان کے گرانقدر قربانیاں ہے ہزاروں لاشیں گرانے کے بعد بھی آزادی کا نیوکلیس ختم نہیں کیا جا سکتا. بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

ریفرنڈم کا مطالبہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کی تاریخی و زمینی حیثیت سے متصادم ہے چند لوگوں کی اجتماع کو اتحاد سے تعبیر کرنا حقیقی قومی یکجہتی کی روح اور اساس سے نابلدی کی غمازی ہے۔بلوچ سالویشن فرنٹ