×

نیشنلزم سے وفاداری ایمان اور ایمان کی حدود سے بھی بلند اعلی اور مستحکم ہے فکر خیر بخش کے تناظر میں تحریر سعید یوسف بلوچ

نیشنلزم سے وفاداری ایمان اور ایمان کی حدود سے بھی بلند اعلی اور مستحکم ہے فکر خیر بخش کے تناظر میں تحریر سعید یوسف بلوچ

سردار مری سے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل نے انٹریو کیا جسے بلوچ حلقوں میں خاص پزیرائی ملی سردار مری کا اپنا اندازفکر ہے اور وہ اس وقت بلوچ مسلح جدوجہد کا براہ راست سیاسی اور فکری قیادت کررہاہے بلکہ وہ اس بارے میں اس سے قبل اپنے ایک اظہار خیال میں بلوچ مسلح جدوجہد سے وابستگی اور نمائندگی کے بارے میں کھل کر بات کی ہے سردار مری نسبتا کم اظہارخیال کے وجہ سے ہر لمحہ بلوچ تحریک آذادی کے روان سفر میں اس کے موقف جانے بغیر ایک تشنگی سی باقی رہتی ہے جسے عام سیاسی دعویداری شایدپورانہیں کرسکتی لہذا بلوچ نیشنلزم بھی سردار مری نقطہ نظر کی شکل اختیار کرتی ہے جسے ہم بلوچ ازم بھی کہہ سکتے ہیں

وہ اپنے اظہا رخیال میں بلوچ نیشنلزم اور اس کے اجزائے ترکیبی بلوچ مسلح جدوجہد اس میں ارتقاء کا ٹھیک ٹھیک تعین اور بیان کرتا ہے اور شاید اسی لئے بعض اوقات کالونائزر حامی جماعتوں کا پورا سیاسی کرداررویہ اور سرگرمیاں ڈھیر ہوکر رہ جاتے ہیں ۔گزشتہ دنوں کے اظہار خیال میں سردار مری نے بلوچ نیشنلزم اس کے مدارج ،خدوخال ،پیمانہ اور بلوچ قبائلی ہیت اس کے اصول جدوجہد آزادی کے بارے میں جو رائے قاہم کی ،وہ بلوچ تحریک آزادی کی موضوع ہے بلکہ محرک بھی ہے جو جدوجہدکے لئے نہ صرف ٹھوس راہ ہے بلکہ یہ جدوجہد اور بلوچ نیشنلزم کی شاہراہ پر اپنی پوری چھاپ چھوڑجاتے ہیں۔ انٹریو کے دوران جب اسے صحافی قاضی جاوید نے نواب مری مخاطب کرکے سوال پوچھنا چاہا تو سردار مری نے اسے یہ کہہ کر روک دیا کہ مجھے نواب نہیں سردار کہا جائے تو بہتر ہوگا کیونکہ نواب انگریز کا دیا ہوا عہدہ ہے اور یہ قبائلی عہدہ نہیں ہے سردار مری نے غلامی کا دیا ہوا انگریز عہدہ سے انکار کرکے بلوچ قبائلی نظام کا اصلی روح برقراررکھ کر بلوچ قوم پرستی کو ایک نئی جہت دی یہ ایک اچھی ابتدا ہے
اورنواب جو تاریخی عہدہ نہیں ہے بلکہ برطانیہ تسلط سے جنم لینے والی یہ عہدہ اس وقت سامنے آتی ہے جب انگریز اپنی تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے بلوچ قبائلی ڈھانچہ کا جوقدیم ترتیب تھا اسے توڑ پھوڑ کرکے اور بلوچ مشترکہ ملکیت کا انہدام کرکے عوام کی ملکیت کو جہاں سردار بھی ایک گھرانہ تھا اور اس مشترکہ ملکیت کا حصہ تھا عوام کی زمینوں کو اپنے قبضہ میں رکھ کر پھرانھیں بطورجاگیر نوابوں کے حوالہ کرکے سردار اور قبائل کے درمیان جو رشتہ اور تعلق تھا اسے توڑکر جاگیر داری نظام کی جڑیں پھیلا کر اور ایک فرسودہ قبائلی نظام کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے پس منظر مین برطانیہ کی قبضہ گیری تھی چونکہ نواب قبائلی عہدہ نہیں تھا اس لئے یہ اکثر وبیشتر بحث ہوتا رہا بلوچ نجی محفلون میں ،بلوچ کچہریوں میں ،بحث ہوتا رہا اور کہا یہ جاتارہا کہ تاریخی طور پر بلوچ قبائلی نظام میں سر براہ عہدہ’’سردار‘‘اور ’’میر‘‘تھالہذا سردار گھرانہ جوتاریخی طور پر ’’میر‘‘کہلاتاہے اور اس گھرانے میں بڑے بیٹے جسے قبیلہ کے افراد خود پگڑی پہنا کر سردار بناتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ قدیم ریاستی لوازمات کے مطابق قبائل میں راہنمایا سربراہ کی ضرورت شدت سے محسوس کیا گیااور اس کے لئے پیمانہ رکھا گیا جو قبیلہ اور مجموعی بلوچ مرکزیت کے مفاد کا علم بردا ر ہو ایمان دار ہو اور بلوچ روایات کا سختی سے پابند ہو بلکہ مجموعی طور پر اس کیلئے بلوچ نیشنلزم کا پیمانہ لازم ٹہرااور اس سے بڑھ کر سردار اور اور عام قبیلہ کے افراد میں ٖفرق یا امتیا ز نہیں تھا سردارمری نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ قبائلی نظام میں گھرانہ تھا حکمرانی نہیں تھی یعنی سردار کی حیثیت حاکم کی نہیں تھی بلکہ وہ قبائلی تنظیم میں ایک سربراہ عہدہ تھا جس کا انتخاب بھی جمہوری طریقہ سے ہوتاتھا۔ اصل میں یہ سرداری نظام نہیں تھی بلکہ یہ قبائلی نظام تھا ۔ قبائلی نظام ہرگز کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو بلوچ سماج پر مسلط کی گئی بلکہ وہ بلوچ سماج کی پیداوار ہے جوسماجی ارتقا کی خاص منزل طے کرنے کے بعد بھی خود کوسماج سے بالاتر نہیں سمجھتاتاریخی طور پر یہ دیکھا جائے تو یہ نظام صرف بلوچوں میں رائج نہیں تھا بلکہ یہ کئی ممالک میں افریقہ اور نو آزاد سویت ریاستون میں اوربعض بلوچ ہمسائیہ ممالک میں بھی رائج تھا قبائل ہر جگہ موجودتھے۔ بعض جگہون میں جہاں دوسرے نظام رائج تھیں جدید ریاست کا تصور تک نہیں تھابادشاہت تھی سلطنت تھی لیکن بعض ممالک میں قبائلی نظام رائج تھا اوریہ لوگ قبائلی نظام کو اشتراکیت اور اجتماعیت کا بہترین علامت قرار دیتے رہے لہذا آج کے کالونائزر کی جموریت سے قبائلی نظام بدرجہابہتر ہیںیہان متوسط طبقہ کے نام پہ جو اصطلاح استعمال کی گئی اور’’اینٹی سردار‘‘تحریک چلائی گئی اور قبائلی نظام کے خلا ٖف پنجابی امپریلسٹ نے جن لوگون کو میدان میں لایا اور قبائلی نظام کے خلاف جو زہر افشانی کی گئی وہ سستے نعرے جو سلوگن تھے جو علم یا اکیڈمک بنیاد پہ نہیں تھے۔ اور بلوچ قوم کے سماجی حیثیت کا تعین کئے بغیر ایک متبادل نظام باالفاظ دیگر پاکستانی جموریت کو اس کامتبادل قرار دینے کی کوشش کی گئی ایک ایسی نظام جو ہمیں پہلے ہی سے غلام رکھاہے وہ ایک بہتر متبادل نظام کیسے ہوسکتاہے؟ لہذااس قابض جموریت یا خارجی دباؤ کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ اور اس پاکستانی جمہوریت کو کس طرح بلوچ قبائلیت پر ترجیح دیاجاسکتا ہے؟ اور اس کے برعکس قبائلی نظام ہی آپ کو مدافعت کے لئے شعوربہم پہنچاتاہے اگر آپ پاکستانی جمہوریت کو گلے لگاکر آزادی کی بات کروگے تو آپ کی تاریخی قومی سچاہی متاثر ہوگی کیونکہ قبائلی ڈھانچہ نیشنلزم کی تخلیق اور پیداوار ہیں اس کی بنیاد نیشنلزم پہ ہیں
اور یہ نیشنلزم سے الگ کوئی پہچان نہیں رکھتی اور اس سے بڑھ کر یہ آپ کا قومی ادارہ ہے لہذاہمیں پاکستانی جمہوریت میں نہیں کھونا چاہیے اور یہ لوگ متوسط طبقہ کے نام پر جو نظریا تی جراہم کرتے ہیں ان کے ساتھ اخلاقی جواز کے لئے سائنسی یا منطقی جواز نہیں ہے ۔بلوچ قبائلی نظام میں فرسودگیاںآئی ہیں ضرور آئی ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتالیکن دیکھنا
یہ پڑتاہے یہ فرسودگیاں کہاں سے آئی ہے اور یہ فرسودگیان کس کی پشت پناہی میں جنم لے رہے ہیں یا ضم کئے جارہے ہیں تو جب ان فرسودگیوں کو بنیادی قبائلی نظام سے الگ کرکے دیکھا جاتاہے تو سمجھ آتی ہے کہ انگریز اور پنجابی کالونائزرکی قبضہ اور مداخلت نے بلوچ قبائلی نظام میں ایسے فرسودہ رجحانات پیدا کی ہے قبائلی نظام میں سنڈیمن نے اپنے مفادات کیلئے جبری طور پر جو فرسودگیان پیداکی پنجابی کالونائزر نے بھچے کھچے قبائلی روایت اور قبائلی اشتراکیت کو قبائلی دہشت میں بدل ڈالی اور اس قبائلی فرسودگی کو قدیم بلوچ سماجی ، معاشرتی اور قبائلی تنظیم کا نعم البدل نہیں کہا جا سکتااور آج قبائلی طور پر ٹکراؤ اور قبائلی جنگوں کی بنیاد انھی فرسودگیوں کا منطقی نتیجہ ہے جہان فرسودہ روایت اور سرداری حاکمیت انفرادی ملکیت کارواج سرداری دہشت جبروغیرہ ایسے خونریز قبائلی جنگیں پیدا کرتی ہیں کیونکہ انگریزنے ایک موقع پرست اور بدعنوانی پر مشتمل ایک قبائلی پرت کو جنم دیاتاکہ اس قسم کی قبائلیت کو انگریز مفادات اورتسلط کے لئے بطو رڈھال استعمال کرسکے اورآج پنجابی کالونائزربعض قبائلی سردارون کو اپنی بغل میں لے کر انہیں مراعات اور آسودگیون سے نواز اتا آرہا ہے انہیں نمبر وار پارلیمنٹ میں اقتدار دیتا آرہاہے تاکہ وہ بلوچ قوم کا نظریاتی استحصال کرکے پنجابی قبضہ کو بر قرار رکھ سکے اور یہ ریاست کے نام ونہاد قانونی دباؤ اور غلامی قبول کرے آخری تجزیہ میںیہان نیشنلزم ہیں اور قبائلیت ایک نظام ہیں اصل میں یہ بلوچ سماجی ارتقا اور ضرورتوں کا حصہ ہے اور اسے ذاتی پسند ناپسندکے بنیاد پر یکسررد نہیں کیا جاسکتا قوم اور ریاست کا پرانا تعلق ہے اور قبائلی نظام اصل میں بلوچ ابتدائی ریاستی ڈھانچہ تھاجس میں انصاف اور اشتراکیت تھا اور آج کی جدید ریاست کی طرح اس میں حاکمیت نہیں تھی نیشنلزم کیلئے زمینی طور پر ایک ریاست کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور یہ اشتراکیت اور برابری سے لبریزایک ریاستی تقاضے پورا کرتاتھا اور اگردیکھا جائے تو بلوچ قبائلی سماج کے اپنے اصول ہوتے ہیں جو قبائلی رواج(TRIBLE CODE )کے نام سے جانے جاتے ہیں جہان عدل وانصاف کا سستا اور فوری نظام سزا وجزا کا پیمانہ جو ایک سردار اور عام قبیلہ کے افراد کے لئے ایک ہی ہے ان روایات سے انحراف جو ایک آہین کی حیثیت رکھتے ہیں اس کے(violation)کرنے والے کے لئے قبائلی زندگی میں زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے ہر فرد اپنے لئے قومی اور اجتماعی مفاد کو رہبر بناتا ہے بلوچ سماج کا ہر پہلو سے مطالعہ کرنے کے بعدمعلوم ہوتاہے کہ یہان طبقاتی سماج کا کوئی وجود نہیں تھانہ ہی یہان متوسط طبقہ یا middle classکا تصور ہے یہاں سب سے پہلے جنگ آزادی کیلئے یہی سردار اور قبائلی نکلتے ہیں نواب بگٹی میر بالاچ خان سردارمری میر شیر محمد مری نواب نوروزخان ور اس کے ساتھی میر محراب خان ایسے کئی بلوچ راہنما میدان کارزارمیں نظر آتے ہیں ۔میں ان سرداروں کا نہیں کہوں گا جو ریاست کے معتمد وفادار ہیں شاید ان کے سرداری پنجابی کالونائزر کی پشت پناہ ہے۔ لیکن ایک وقت میں سردار اور عام قبیلہ کے افراد میں فرق کرنا شاید مشکل تھا اس دور میں قبائلی سردار کی سماجی حیثیت کو بلوچ شاعر شہ مرید نے اپنے اس اشعار میں خوبصورتی سے ڈھالاہے۔ چاکر گبرے زیادہ انت
(کہ)سرداری ء نام پر انتیعنی چاکر خان کی سماجی یا قبائلی حیثیت اگر مجھ( شہ مرید)سے کچھ زیادہ ہے تو وہ چونی برابرکیونکہ وہ قبیلہ کا سردار ہے ورنہ وہ بھی رند بلوچ ہے اور میں بھی رند بلوچ
قبائلی نظام کو قوم سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا دیکھئے ایک قبیلہ جو پورے بلوچ قوم کی اکائی ہے لہذا ایک قبیلہ میں جو قبائلی رواج ہے انصاف کا طریقہ کار ہے سزا وجزا کے پیمانہ ہے رسم رواج ہیں ثقافت ہیں حتی کہ قومی رجحانات ہیں یا مشترکہ ملکیت تھا بلکل یکسان ہیں وسیع عریض رقبے جہان میلوں کے فاصلے ہیں دور دور یا منتشر آبادی ہیں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں میلوں کے فاصلوں پر جہان زبان کالہجہ یا الفاظ کا چناؤ مختلف ہوتا ہے لیکن بلوچ مینو فیسٹو یا آئین تبدیل نہیں ہو تا ثقافت اور تہذیبی قدروں میںؔ ٖفرق پیدا نہیں ہوتا ۔اور بیرونی تسلط توڑنے کے لئے شدت کے ساتھ نیشنلزم اپنی مدارج طے کرتی ہے اور لوگون میں ہر دم ایک بے چینی سی پیدا ہوتی ہے اورپہاڑوں مین بھٹکے ہوئے وہ خانہ بدوش بلوچ چرواہا جو اپنے سادہ اندازاظہار میں اس بیرونی تسلط اور غلامی سے شدت سے نفرت کرتاہے اوروہ اپنے سماج میں ہمیشہ اس تلاش میں رہتا ہے کہ اس سماج میں کوئی نوری نصیرخان کیوں نہیں ہے اسے یہ عدالتیں اور ایف آرہمیشہ پریشان کرتے ہیں شاید وہ اپنے غلامی کا اظہا ر اس طرح بھی کر تا ہے اسے شاید کوئی سمجھیں یا نہ سمجھے اس کے پاس کوئی اصطلاح یا سلوگن ہو نہ ہو بحر حال وہ اپنا اظہار سادہ زبان میں کرتی ہے اس کا نیشنلزم جو اسکے ضمیرمیں زندہ ہے ثابت اور پختہ ہے خام نہیں ہے اس مین طفلانہ یا بچگانہ نہیں ہے اس کا سوچ احساس سائنسی اور جدلیاتی بھی ہے لیکن اس کا اظہا ر لفظوں کے ہیر پھیر کا لباس نہیں پہنتا اس کا اندازہ بہت سادہ ہے لیکن اس کے سوچ اوراحساس آذادی کو’’کروڑپتی متوسط طبقہ‘‘ دباتی اور مجروح کرتی ہے اور ایک ووٹ کے پرچی کے زریعہ اس کے ہاتھ میں غلامی کا پروانہ دے کر اس کے احساسات اور نیشنلزم کابے رحم استحصال کرتا ہے
بلوچ قبائلی نظام اشتراکیت کی بنیاد پر استوار تھی جہان آج بھی بعض ایسے علاقے ہیں جن کی دامن قبائلی فرسودگیوں سے آزادہے جہان مشترکہ ملکیت عملا موجود ہیں ایسے علاقون میں پہاڑ ، زمین ،آباد و بنجر اراضیات مشترکہ ہے سردارمری کاکہناہے کہ کمیونسٹ کہتے تھے کہ قبائلی نظام ابتدائی ’’کمیون ‘‘ سوسائٹی ہے جو کہ قدیم اشتراکیت ہے سردارمری قلات کنفیڈرنسی کے بات کرکے وضاحت کرتاہے کہ یہانTrible fedrationتھا سرداری نظام نہیں تھا۔
ہم دعوی سے کہ سکتے ہیں بلوچ قبائلی نظام کی بنیاداشتراکیت پر تھی اس میں فرسودگی اور فرسودہ تبدیلیوں کا آغاز انگریز اور پنجابی کالونائزر کی مسلح مداخلت کے ساتھ آئی انگریزوں نے قبائلی اشتراکیت کو کلعدم کے سردار کی بالادستی کو رواج دیکر سردار کو ایک دہشت کا روپ دیکر اسے ظلم کرنے اور استحصال کرنے کے گر سکھائے کیونکہ انگریز قبضہ گیری نے
سردارون کی بالادستی میں اپنے قبضہ کو مستحکم اور آسودہ سمجھااور سردار کو اپنے تابع میں رکھ کربلوچ قوم کو محکوم اور سردار کے تابع رکھا اور سردار کو نواب کے لقب سے نوازا۔اور اب بھی جہاں مشترکہ ملکیت کی اراضیاں موجودہیں جنہیں اجتماعی اراضی یا ’’شاملات ‘‘کا نام دیا گیا ہے یہ اراضیاں قبیلہ کی افراد کی مشترکہ ملکیت ہیں ان کی تقسیم مستقل نہیں ہوتی اور نہ ہی انھیں فروخت کیا جا سکتا ہے اور ایسے علاقہ ہیں جہان دوتین قبیلہ اکٹھے رہتے ہیں وہان کوئی ایک قبیلہ اس علاقہ کے پانی، پہاڑ،زمین ،چراگاہ،دشت ومیدان پرانفرادی دعویداری سے محروم ہے میرے اپنے آبائی علاقہ قلات ’’مامہ تاوا‘‘میں ایسے اشتراکی ڈھانچہ آج بھی موجودہیں جسے میں بلوچ اشتراکیت کا منبع کہون گا جو مشعل راہ ہے یہان ایک پہاڑ ہے جو تین قبائل کی مشترکہ ملکیت ہیں اس کے چارہ اور لکڑی کے استعمال وغیرہ پر تمام قبائل کا برابر حق ہے اور ان کو استعمال کرنے کے لئے باقائدہ ’’مثل ‘‘یعنی ضا بطہ موجودہیں جو تین سو سال پرانا ہے ضابطہ کی خلاف ورزی پر میر وسردار اور ایک عام بلوچ کے لئے سزا کا پیمانہ ایک ہی ہے ان میں پہلی بات یہ ہے کہ اس جنگل میں جولکڑی ہے جو بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے اسے عام حالات میں استعمال نہ کی جائے اور عام حالات جو قریبی پہاڑیا جنگل ہیں وہان سے لکڑیاں استعمال میں لائی جائے اور اس جنگل کی لکڑیا ں اس وقت استعمال میں لائی جائے اگر کسی کہ گھر میں کوئی فوتگی ہوئی ہے یا کسی کے گھر میں کوئی شادی یا کوئی خوشی کی رسم ہورہی ہو وہان لکڑی کی بطور ایندھن زیادہ ضرورت پڑتی ہے تو علاقہ میں جس کے پاس بھی اونٹ ہیں تو سب مل کرانہی غم زدہ خاندان کے گھر اور شادی بیاہ والے گھر میں لکڑیا ن بہم پہنچاہی جاتی ہے خوبصورتی یہ ہے کہ یہان ’’جبر‘‘ یا’’ احسان ‘‘ نہیں ہے رضاکارانہ ہے اور سچاہی یہ ہے کہ یہ میر اور عام قبائلی فرد یا افراد کے لئے بلکل یکسان ہیں چارہ کا استعمال کا طریقہ بھی یہی ہے کہ یہان مالی چرائی میں بھیڑ بکریوں کی چرانے کی ممانعت ہے اور سب کے لئے یکسان ہیں اس میں ایسا بھی ہواہے کہ اگر کسی قبائلی میر کی کوئی ریوڑیہان دیکھا گیا خلاف ورزی کرنے پر میر کو بھاری جرمانے اداکرنا پڑا کیونکہ یہ ایک ایسا گھاس ہے جو 12مہینہ تک موجود رہتائے اور شدید قحط سالی اور ڈکھالوں میں کم یا ختم نہیں ہوتی اگر یہان مال چرائی کی اجازت ہوتو تو وہ کہتے ہیں کہ بھیڑبکریا ن اس چارہ کو رروندتی اور مسلتی ہے اس لئے اس کی افزائش ختم ہوتی ہے اس کی کٹائی کی اجازت ہے جو تمام قبیلون کی مشترکہ ملکیت ہے دیگر جانوروں کی چرائی کی اجازت ہے جو اسے خراب نہیں کرتے اورجہان بنجر آباووخشکابہ اراضیات ہیں جن کی آج تک تقسیم نہیں ہوسکی پوچھنے پر جواب یہ ملا کہ یہ مشترکہ ملکیت یا شاملات اس کی مستقل نہیں ہوسکتی پہاڑ تینون قبائل کی ہے اس میں
چارہ وغیرہ جو کچھ بھی ملے گا سب کی ہے دستیاب وسائل جو کچھ بھی ہے سب کے اشتراک سے بہم پہنچائی جاتی ہے یہ سب اشتراکیت ہے بلوچ قبائلی نظام میں سزاوجزا کاپیمانہ میر وسردار اور عام بلوچ کے لئے بلکل ایک ہی ہے سماجی خلاف ورزی پر عام بلوچ اور سردار کے لئے مقررہ سزامیں فرق نہیں تھامیرے خیال میں ایسے کئی علاقے ہیں جہان آج بھی سردار کی من مانی عدالتیں نہیں ہے بلکہ معاملات کو علاقہ کے سفید ریش باھمی مشاورت سے حل کرتے ہیں ہر فرد اپنے عمل کے لئے اجتماعی مفاد کو مشعل راہ اور رہبر بناتا ہے وہ جیتاہے تو قبیلہ کے لئے اور مرتا ہے تو قبیلہ کے لئے اخلاقی طور پر سکھایا جاتاہے کہ ایک قبیلہ کا بچہ ، ورنا اس کی تربیت اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ اس سے توقع ہوتی ہے کہ وہ ہر ایک کی خدمت واحترام کرے اور ہر ایک اس کی مددخدمت واحترام کرے۔ بلوچ قبائلی ڈھانچہ کا NATUERیہ ہے کہ قبائل کے میر وسفید ریش سردار لوگون کوسستے اور فوری انصاف فرائم کر سکے ۔ میرے خیال مین تو پھر ان کالونائزر کی کرپٹ نا اہل اور بدعنوانی پر مبنی عدالتوں کوکس طرح بلوچ اشتراکیت کا متبادل قرار دیا جاسکتاہے ؟کونسا پولیٹیکل سائنس،سوشیالوجی علم ودانش رکھنے والے علم اور دلیل کے بنیاد پر بلوچ قبائلی نظام کے اعلی اشتراکی خصوصیات ،ڈھانچہ اور ضابطے کو رد کرسکتاہے ۔یا اسے ایک فرسودہ سوسائٹی کا نام دے سکتاہے اگر بلوچ جدید علم سائنس وہنر سے پیچھے رہ گئے اس کی کیا وجہ ہے ؟کیا دو سو سالہ غلامی اسکی وجہ نہیں ہے ؟کیاغلامی میں گھرے ہوئے قوم سے جدید علم وہنر کا تقاضا کیا جا سکتاہے ؟سوچنا چاہیے کہ بلوچ قوم کی ترقی سائنس ہنر سماجی اور علمی ارتقاء کو پنجابی کالونائزرنے نہیں روکا ہے ؟تعلیم اور ترقی کے نام پر ان کی بے رحم استحصال نہیں کیا ہے ؟پچھلے ساٹھ سالوں میں کالونائزر کس کو ترقی، ہنر یاٹیکنالوجی دی ہے ؟کم ازکم اس کا حساب تو دیں ؟کیادوسو سالہ غلامی نے بلوچ قوم کو دنیا کی ترقی اور سائنس سے نہیں کٹایاہے ؟اس طویل مدت میں ان کے ساتھ کئی سردا ر سیاسی جماعتین لکھنے والے دانشور سرکاری نوکری کرنے والے ان کے سکولون میں پڑھنے والیے بہت سے وفادار ملے ہم نے دیکھا کسی نے ترقی نہیں کی سائنس وٹیکنالوجی نے اس کو چھوا تک نہیں وہ ہنر نہیں سیکھا البتہ نوکر یانوکری بابوگری تک ترقی سمجھ میں آتی ہے۔ سیاسی سطح پر ترقی نہیں ہوئی دانشوروں کی
بھی ریاستی سرپرستی میں تربیت کی گئی انہیں برین واش کرکے ان کی قومی شعور کو کالونائزرریاستی شعورمیں بدل دیا گیا سیاسی جماعتوں کوبلوچ قومی آزادی اور مسلح جدوجہد کے مقابلے میں کھڑاکیا گیا ہم سے غدار اور منحرف پیداکئے گئے ہمیں برادرکشی تک لا یا گیا ہمارے معصوم بلوچوں کو خیرات خوراور بھیک منگا بنا گیا انکی جذبات و احساسات کو مجروح کیا گیا اگر یہ سائنس ترقی اور تکنیک ہے توپھر اس کیلئے لعنت کے دو الفاظ بھی کافی ہے ۔
اب بلوچ پر حملہ کرنے اسے مارنے کے لئے اور اس کے وسائل لوٹنے کے لے سڑکیں ، ریلوے پٹڑی یا ہوائی اڈے یا کمیونیکشن کے دیگر زرائع کوجسے ریاست ترقی کہتاہے وہ ہمیں مارنے کیلئے ہیں اگر اسے بلوچ سردار خوش آمدید کہے گا تو میرے خیا ل میں وہ بلوچ نسل کشی اور کالونائزرکے قبضہ کو جواز فراہم کرتاہے اگر یہ پیشکش روس پر حملہ کے لےئے لینن کوبھی ہوا ہوگاتواس وقت لینن نے بھی اس کو ٹکرایا ہوگا وہ روس پر حملہ کے ایسے انفراسٹکچر کو خوش آمدید نہیں کیا ہوگاٹکرانے کے اس عمل کوہم قومی وانسانی شعورکہتے ہیں ۔کہا یہ جانا کہ یہ
ترقی ہے اور سردار اس ترقی کو نہیں مانتایہ امپریلسٹ کی اپنی جہالت ہے سردار اور قبائلی نظام جو ایسی ترقی کی مخالفت کرتا ہے وہ نیشنلزم اور قبائلی نظام کا اعلی وصف ادراک اور شعور ہے۔ بلوچ کو ان کی سماج روایت اور پہچان ،تشخص ،کمیونٹی، نظام ریاست اور حتی کہ اپنی پہچان سے بیگانہ کرنا ذہنی غلامی کا ایسا بیج بونا کہ بلوچ غلامی کی اس افتادگی میں اپنی پہچان نہ کریں شعوری یا لا شعوری طور پر وہ خود کو پنجابی سے لازم وملزوم کرنے تک آئے انسانوں کے اس ہجو م میں وہ ریڈ انڈین بن جائے اسے ترقی کہنا غلط ہے علم پولیٹیکل سائنس سوشیالوجی کے استاد آئے ہم نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کا علم اور سماجی سائنس سے جواب دین کمزور دلیل کے ریاستی وظیفہ خوربلوچستان دانشوربلوچ نیشنلزم کو جواب دہ ہے ؟ہر ایک علم ودانش کے نام پر حملہ آور کیلئے راہ ہموار کرنے کو دانشوری کہتا ہے یہ دانش کو کھاجانے کی مترادف ہے یہ دانش یا ادراک نہیں ہے ۔کیاچینا جب غلام تھا کیا وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر وعلوم وفنوں سائنس اورتکنیک کی بلندیوں پر تھا ؟کیا ہندوستان میں انفراسٹکچر کی جال اور انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ھندو سماج کو ترقی دی یا پھر اسکے نام پر ان کی قومی صنعت کو بربادنہیں کیا گیاکیا ایسٹ انڈیا کمپنی نے ترقی کے نام پر بنگال کے ہنر مندوں کی انگلیان تک نہیں کاٹی ؟امریکہ جوخود برطانوی نوآبادی کا حصہ تھا اس کا حشرکیساتھا؟ ۔اورآج پنجابی ہمیں ترقی دیگا غلط ہے قابض کھبی ترقی نہیں دیتا وہ استحصال کرتاہے اس کی حاکمیت اور بالادستی اور قبضہ کی بنیاداستحصال پر ہے کیونکہ استحصال کرنے والے اگر کسی کو ترقی دیکر اپنے برابر لائے توپھر اس کی قبضہ کاکوئی ڈھانچہ مستحکم نہیں ہوتاوہ کھبی بھی کسی کو ترقی دیکر اپنے برابر نہیں لاتا وہ ترقی دے کر خودکو کھبی بھی کمزور نہیں کریگا بلکہ ترقی اور تعلیم کے نام پر محکوم کو کمزورسے کمزورتر کرنے کی کوشش کریگا ۔وہ کوشش کریگا کہ بلوچ سماج کو ایک ایسازہریلا انجیکشن سے سلائے تاکہ آزادی کا سوچ کھبی بھی سر نہ اٹھائیں۔پنجابی کالونائزرکی ترقی کی باتیں گھٹیا اور فرسودہ ہے وہ رٹتا ہے کہ میں بلوچون کو ترقی دون گااور کچھ بلوچ سیاسی جماعتیں بھی تابعداری اور وفاداری میں اپنا سب کچھ’’ عزت نفس‘‘ لٹانے کے لئے بھی تیار ہیں جو امپریلسٹ کے ذہنی غلام ہیں اور وہ اس پر خوش اور نازان ہیں کہ کالونائزر کی انفراسٹکچر ، سامراجی سکولیں انہیں علم اور مدارج طے کروائین گے بقول بلوچ نیشنلسٹ سردارمری کے کہ سکول بابو بناتے ہیں ۔ظاہر یہ سائنٹس یا ہنر مند افراد پیدا نہیں کرسکتے تو پھر یہ بابو نوکر وفادار اور غلام بنانے کی فیکٹری ہے ان کو سکول کہنا اسکول کی توہین ہے کیونکہ یہ صرف ذہنی غلاموں کا ایک طبقہ پیداکرتے ہیں اور اگر ان میں سکول کا بین الاقوامی معیار دیکھا جائے تو یہ غیرمعیاری تعلیم ہے اور اسکے خالق اسے زائد المیعاد اور اوربین الاقوامی علم ہنر کے مقابلے میں پسماندہ کہتاہے تو جب یہ اپنے خالق کے لئے زائدالمیعاد ہے تو پھر یہ ہمیں کیا سائنس ،علم ، تہذیب ، اور اخلاق سکھائے گا یہ سامراجی اسکولیں اور انفراسٹکچرہمیں غلامی کے دلدل،پستیون اور گندگیوں سے کھبی بھی نہیں نکالیں گے اگر ہمیں غلامی سے نکلنا ہے ترقی کرنا ہے اور علم وہنر کی بلندیون تک پہنچانا ہے تو اس کے لئے آزاد جغرافیہ کا ہونالازمی ہے لیون ٹالسٹائی کہتاہے کہ اگر قیدی کے ووٹ سے ان کی مرضی کا جیلر منتخب کیا جائے تو اس قسم کی جھوٹی رعایت سے قیدی آزاد نہیں ہون گے آزاد کیلئے ’’فائل بازو‘‘نہیں مسلح بازو چاہیے میں اس کیلئے ARM STRUGGLEکا کہون گامسلح جدوجہد ضروری ہییہ جدوجہد کی دیگر محازوں کا بھی تشکیل کرتاہے یہ آپ کو غلامی کی گندگیوں سے نکال کر خوداعتماد بناتا ہے وگر نہ ہم کسی ریاستی طے شدہ ضابطے کا حصہ بن کر کسی سامراجی سکول کا طالب بن کر اس کی نام سے ہم یونیورسل علم تک نہیں پہنچھ سکتے اور ایک لاء کالج کی پرنسپل کونااہل کرواکر ہم علم وانصاف کی بلندیوں پر نہیں پہنچھ سکتے اس کی پوری مشینری کو کیون نا اہل نہیں کی کیون نہیں سوچھاجاتاہم کیون انڈے کی مطالبہ کرتے ہیں پوری مرغی خانہ کا کیون نہیں؟
ہماری آزادی کی دعویداری سمجھوتہ یا مجبوری پرآکر رکتی ہے کیون ؟ہم عادت کے طور پر آزادی کی بات کرتے ہیں لفاظیت کی حدتک ’’سرٹوٹ جائے ،یہ پہاڑبھی آخر ٹوٹے گا‘‘جیسے نیشنلسٹ بلوچ بننے سے ہم کیوں گریزان ہیں ہماری آزادی کی دعویداری آئی ٹی یونیورسٹی کے کوٹہ خورٹیکنالوجی تک آکر دم توڑتی ہے کیوں؟

سردارمری کا کہنا ہے کہ’’ ترقی ہم اپنے آپ کو خود دیں گے وسائل ہمارے پاس ہے زمین ہماری ہے اور سخت جانی مین بھی ہم کسی سے کم نہیں اور یا جوسماجی سطح ہے اس میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہیں ہے اور پنجابی ہم سے طاقتور نہیں ہے وہ کہتا ہے شعور کی کمی ہے یاشاید ہماری فکر میں وہ بلوغت ابھی تک نہیں آئی سردارقومی شعور کی بات کرتاہے اور فینن کا اس پر اتفاق ہے کہ’’ گوریلا جنگ میں جدوجہد کاتعلق اس جگہ سے نہیں ہے جہان آپ ہے بلکہ اس جگہ سے ہیں جہان آپ جارہے ہیں ‘‘
کیونکہ قابض کھبی بھی آپ کو علم تعلیم اور ترقی نہیں دیتا بلکہ وہ ہرلمحہ آپ کو پسماندہ کرنا اور سلانا چاہتا ہے اور یہ آپ کا بے رحم اور شدید استحصال کرتاہے جب جنگ شروع ہوتی ہے تو آپ کو آزادی کا احساس ہوتا ہے تو آپ تعلیم کو ازسرنو دریافت کرتے ہیں کیونکہ جنگ آزادی کاتعلق آپ کی ترقی شعور سائنس وہنر سے ہوتی ہے اور آپ گوریلا جنگ کے زریعہ وہ فاصلے طے کررہے ہوتے ہیں جنگ ایک دفاع ہے، مدافعت ہے، ذہنی غلامی سے، غلام ترقی سے ،فرسودہ نظریات سے، استحصالی امن سے، اور سب سے بڑھ کر قومی غلامی سے ۔۔فینن ایک خوبصورت بات لکھتاہے جب ہمارے سلوگن اور آزادی کی دعویداری(عمل نہیں) ان کے روح کو تڑپاتے ہیں تو وہ لکھتاہے کہ ’’جدوجہد کی کامیابی کیلئے واضح مقاصد اور متعین طریقہ کار اولین شرط ہے اور سب سے بڑھ کر لوگون کو اس احساس کی ضرورت ہے کہ ان کی غیر منظم کوششین محض ایک وقتی تحریک بن جائیں گے عوام الناس کی احتجاج پر آپ تین ماہ یا پھر تین دن نکال سکتے ہیں لیکن اس سے قومی جنگ نہیں جیتی جا سکتی اگر آپ عام لوگون کی شعور کا معیار بلندکرنے کا کام نہیں کرتے تو انسانون کو کھبی بھی بدل
نہ سکین گے اس کام کے لئے نہ محض پائیدار جرائت کافی ہے نہ شاندار نعرے ‘‘ہماری نظر میں یہی نیشنلزم ہے ، نیشنلزم اصل میں قومی شعور ہے جس میں آپ کا، آپ کی جغرافیہ کا ، سماجی سطح کا آپ کی علم ترقی کا ،ذرائع پیداوار کا ،آپ کی نفسیات ،ادب ، جنگ ،جنگی اصول ،دفاع ، مدافعت جیسے اعلی روایات اور قوم، اور قوم سے مراد آپ، قوم ہے تو نیشنلزم ہے۔سردارمری نے اپنے حالیہ اظہار خیال میں نیشنلزم کی جامع اور مفصل تعریف کی ہے ان کے اپنے الفاظ میں ’’کہ ایک زبان ہو جس میں کچھ تبدیلی ہے ،ثقافت ہو، جغرافیہ ہو اور آذاد ہو اور پھر انصاف کا نظام ہو ان کا وطن ہو یا قوم اور ملک ‘‘۔۔۔
یعنی NATIONقوم اورNATINOLISM قومیت،قوم پرستی جو اپنے اندر گہرائی رکھتی ہے بلوچستان جوقوم کے نام سے منسوب ہے بلوچ یعنی قوم اور قومی ریاست اوراس کاعملی شکل۔ سٹالن نیشنلزم کی تعریف اور وضاحت اور اس کا عمومی خاکہ ،خدوخال اس طرح پیش کرتاہے ’’کہ ایک قوم تاریخی طور پر پروان چھڑنے والاایک ایسا محکمstableگروہ ہے جس کی مشترکہ زبان علاقہ ،معاشی زندگی اور نفسیاتی روپ یا قومی کردار کاایک ہونا لازمی ہے ‘‘اس کا مطلب یہی ہے کہ سب اجزا موجود ہوتو قوم ترتیب پاتا ہے اورآج پوری دنیاجہان گلوبلائزیشن یا گلوبل ٹینٹ کی بات کی جاتی ہے وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی حدتک گلوبلائزیشن ضرور ہے لیکن سرحدیں گلوبل نہیں ہے ہر ایک کی اپنی جغرافیہ حدیں ہیں کوئی کسی قوم کی مرضی کے بغیر اس کی سرحدوں سے گزرنے والی یا اس کی جغرافیائی حدون کوچھونے والی INTERNATINAL ROOTSکا استعمال نہیں کرسکتا سرحدی خلاف ورزیون پر خونریز لڑائی جنم لیتی ہے سالون تک چلتے ہیں سب سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ہیں چاند تک رسائی ہے لیکن معمولی خلاف ورزیوں پر ایٹمی حملوں تک دھمکی کی نوبت آتی ہے کیا بلوچ جب اپنی وطن کی سرحدوں کی بیرونی خلاف ورزیون پریا قبضہ کے خلاف(کالونائزرکہتاہے کہ میں یہان سے سڑک گزارون گاچھاؤنی بناؤں گاانفراسٹکچرکے جال بچھاؤن گا) کالونائزر کے خلاف دوراکٹ مارتا ہے تو کیا یہ عین بین الاقوامی فوجی اصول نہیں ہے ۔سوچنا چاہیے دنیا بھر میں آزادی کے لے لڑی جارہی ہے ہر ایک اپنے سرحدوں کی حفاظت کے لئے لڑرہی ہے ہم تنہا نہیں ہے آئرش ریپلکن آرمی آئر لینڈکی آزادی کے لئے طویل مدت سے جنگ لڑرہے ہیں لیکن وہ کھبی نہیں تھکا اسکے بارے میں بھی ان کے اپنے لوگ یہی کہتے رہے ۔کہا یہ گیا کہ ایک انگریزدرزی کی ایک دکان جلانے یااڑانے سے آئر لینڈ آزاد نہیں ہوسکتا جیسے کہ آج بلوچ مسلح جدوجہد کے بارے میں کہا یہ جارہاہے یہ وہ لوگ کہتے ہیں جو شاید وہ اپنے دفاع کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ایسے رجحانات نیشنلزم کے ضمرے میں نہیں آتے بلوچ نیشنلزم میں یہ صلاحیت ہے کہ جب کوئی آپ کی عزت نفس پر ہاتھ ڈالے تو آپ سر نہیں جھکاتے، سرٹوٹ جا ئے اور بات ہے جب سانسیں چلتی ہے بلوچ نیشنلزم آپ کو بے حس کرکے بھکاؤ مال نہیں بناتا۔۔۔
ؓؒ بلوچ خونی رشتون میں بندھے ہوئے ایک قوم ضرور ہے یا ایک محکم گروہ ہے لیکن بلوچ ہونے کیلئے بلوچ سوسائٹی میں ایک پیمانہ ہے بلوچ سماج اپنے قوائد وضوابط میں سخت گیر ہے جس طرح مسلمان ہونے کے لئے ان اعلی اوصاف کا ہو نا ضروری ہے اسی طرح بلوچ ہونے کے لئے باوجود خونی اور نسلی رشتون کے ان اوصاف کا ہونالازمی ہے ۔بلوچ سوسائٹی کا عام مثال ہم لیتے ہیں توسماجی سطح پر آپ کو کئی ایسے مثالیں ملیں گے کہ آپ جس کمیونٹی قبائل یاخاندان وبرادری میں رہتے ہیں تو اس کمیونٹی کی جو قوائدضوابط ہے تو ان کی آپ کو سختی سے پابندی کرنا ہوناتی ہے کہ جب آپ اس برادری کی مشترکہ ہمدردیون غم خوشی’’لٹ بیر‘‘یا ایسے بہت سے عوامل ہے شامل نہیں ہوتے تو وہ سوسائٹی آپ سے سوشل بائیکاٹ کرتاہے جسے ہم ’’مرک وزند‘‘ کہتے ہیں نوبت اس حدتک آتی ہے کہ اس سے سیال، ہمسائیہ، اور عزیزسب درجہ ان سے چھین لی جاتی ہے کہایہ جا تا ہے

کہ اس کو ہماری قبرستان میں دفن نہ کرو یہ بلوچ ازم ہے اور بلوچیت ہے۔ بلوچ سوسائٹی اپنے اند ر ایک تنظیمی صلاحیت رکھتی ہے اور تنظیم باالفاظ دیگر ایک ریاستی ڈھانچہ ہوتا ہے یا ایک ریاستی ڈھانچہ کا اکائی ہوتاہے جن کی بنیادوں پر ایک ریاستی ڈھانچہ کی تعمیر کی جاتی ہے بلوچ سماج کے اعلی اوصاف یہ ہے کہ آپ اس سماج میں رہتے ہوئے انفرادی حیثیت سے اپنے اور اپنے لوگوں سے کنارہ کشی یا بیگانگی اختیار کریں گے تو آپ کووہ سماج سزا دیتی ہے خونی رشتون مین بندھے ہونے کے باوجود وہ سوسائٹی آپ کو خود سے جدا کرتی ہے جو بہت بڑی سزاہے اس طرح ہم بلوچ نیشنلزم کی طرف آتے ہیں جو کہتاہے کہ میں قوم پرست ہوں اور دوسری دن کہتاہے کہ بلوچ اور پنجابی لازم وملزوم ہے ایسے لوگ کیسے نیشلسٹ ہیں ؟کیا ایسا قوم پرستی کا دعوی لفاظی نہیں ہے دھوکہ نہیں ہے غلط بیانی نہیں ہے۔ قوم پرستی کا ایک معیار(کچ وکساس) اور پیمانہ ہے کیا وہ نیشلزم کے ضابطے پر پورا اترتی ہے کیا اہداف اور اہداف کیلئے جدوجہد کرنے والے میں فرق ہوتا ہے ارادہ عمل نیت کیا ہے ۔۔نیشنلزم کو سمجھنے کے لئے اس کے اجزائے ترکیبی قومی ریاست اور قومی تشکیل اور قومی جغرافیہ کو سمجھنا ضروری ہے یہ بنیادی طور پر ایک سماجی سائنس ہے ایک قوم کا مکمل سماجی ضابطہ اور نصب العین ہے یہ جدوجہد کا تھیوری ،اورپیمانہ ہے نیشنلزم سماج میں ہمیشہ سے موجود رہتاہے اور جدوجہد کے دوران اس میں گہرائی آتی ہے عام حالات میں رومانوی ہوتی ہے جنگ کے دوران اس میں گہرائی آتی ہے جہان نیشنلزم اپنے اصلی روپ میں سامنے آتاہے وطن سے محبت اپنی تاریخ، ثقافت ،زبان ادب سے محبت بھی نیشنلزم ہے لیکن اپنے وطن کی آزادی اور دفاع کے لئے لڑنا اس سے بھی بڑا نیشنلزم ہے جنگ اور عمل کے دوران نیشنلزم کندن بننے کے مرحلے سے گزرتاہے مثلا میں رومانیت کی بات اسلئے کرتاہوں کہ یہ محض محبت ہے سطحی ہے اس میں گہرائی نہیں ہے تو یہ رومانویت ہے محض وطن
سے پیار قوم سے محبت کیا اس محبت میں ایسی گہرائی ہے جو اس کے لئے قیمت دینے پر آمادہ کرتی ہے سرفروشی تک لے آتی ہے یایہ محبت الفاظ کے تلاطم کے سوا اور کچھ مہیا کرنے سے قاصر رہتاہے محبت قیمت مانگتاہے جو دینی پڑتی ہے محبت اورمحبت کیلئے قیمت دینے میں(قربانی) میں شاید فرق ہوتا ہے قربانی شرط ہے اور یہ نیشنلزم یعنی (قومی شعور)ہے نیشنلزم کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نیشنلزم کا اعلی ادراک اور وصف ہے تاریخ کی جانب آتے ہیں ہمارے مورخ یا جو کہتے ہیں تحقیق کی ،محقق ہے وہ لکھا کچھ نہیں ،تقلید کرتے رہے تاریخ ایسا ترتیب ہے کہ اس کیلئے تقلیدنہیں تحقیق کیا جاتا ہے ہم غلام رہے ہمارے پاس دستیاب وسائل اتنے نہیں تھے کہ کوئی اعلی پیمانے کی ریسرچ کرسکیں جو کچھ لکھا گیا وہ’’ میتھالوجی ‘‘ہے کسی نے عرب لکھا کسی نے آریا ئی لکھا کسی نے سامی اورکسی نے زرتشت لکھا ہمین الجھا یا گیا بلوچ کسی نے نہیں لکھا چیزون کو ان کے پہچان چاہیے شاید اس سے انگریز اور اس کے کالونیل ایجنٹ کو خوف تھا کہ اسلئے ایک ’’میتھا لوجی‘‘ لکھا گیاانتشار پیدا کیا گیا میرے خیال میں اب بلوچ لکھنا چاہیے بلوچ ازم پڑھنا ہے بلوچ کوبحث کرنا چاہیے بلو چ ثقافت ، ادب نفسیات ، بلوچ سماجیات ، بلوچ سیاسیات زبان بلوچ زرائع پیداوار معاشی ڈھانچہ بلوچ اشتراکیت ان کا علم وادراک لازمی ہے ایک بلوچ ورنا کیلئے اپنی سماجی سطح سوشیالوجی کاعلم حاصل کرنا اپنے سماجی وظائف قومی اور قبائلی ادارہ کا مطالعہ ضروری ہے جیسے کہ آج کہا جارہا ہے کہ موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کی دور ہے تو کیا ہم آنکھ موندہ کر اس ٹیکنالوجی کے سامنے بلوچ نیشنلزم کو قربان کرے میرے خیال میں علم دلیل ناپختہ ہے ویسے بھی سوشیالوجی یہ کہتاہے کہ جب تک سماج کو سماجی شعور بالفاظ دیگر قومی شعور نہیں دیا جاتا تو اس وقت محض سائنس اور تکنیک سے قومی سماج کو جدید نہیں بنا یا جاسکتا کیونکہ قومی شعور کی عدم موجود گی میں سائنس اور تکنیک بھی آپ کا استحصال کرتے ہیں اس کے لئے بھی قومی شعور کا ہونا لازمی ہے ۔کیونکہ کہ قابض ہمیشہ مقبوضہ قوم کو ذہنی غلام بناتا ہے تاکہ اس کی قبضہ کو مقبوض چیلنج نہ کرسکیں وہ اپنی پوری طاقت قومی شعور کو ختم کرنے پر لگاتی ہے سامراجی سکولوں کے زریعہ نیشنلزم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی جاتی ہے بعض کالونائزر ایجنٹ جو قومی شعور نہیں رکھتے وہ یہ سمجھتے ہین کہ سامراجی سکولیں انھیں شعور ، علم اخلاق سائنس فنی علوم دیتے ہیں حالانکہ ان کا سائنس ’’مادہ‘‘ اور’’ ایٹم ‘‘کی تعریف تک بھی صحیح نہیں کرسکتا وہ اور کیا علم دے سکے گا وہ ہمیشہ سے قومی شعور کو بانجھ کرنے کی کوشش کرتاہے وہ سمجھتاہے کہ جب تک قومی شعور موجود رہتاہے تو آزادی کی تحریک کو نہیں روکا جا سکتا نیشنلزم اس کی قبضہ کے خلاف خطرہ کی گھنٹی ہے ہمارے ہان بعض لوگ جمہوریت کی بات کرتے ہیں سوشلزم کی بات کرتے ہیں سیکولر ازم کی بات کرتے ہیں،نظام کی بات کرتے ہیں لیکن وہ آذادی کی بات نہیں، کھبی نہیں کرتے۔ کل سوشلسٹ سویت یونین تھا ہم غلام تھے آج دنیا سائنس وٹیکنالوجی کی بلندیوں پر ہے ہم غلام ہیں دنیا مزید ترقی کرے گاہم غلام رہیں گے غلام کھبی ترقی نہیں کرتا غلام ہمیشہ پیچھے رہتا ہے اس کی پسماندگی کا سہرا اور بنیاد غلامی ہے۔ کیونکہ غلا می ہی کسی قوم کی علمی یا سائنسی ارتقاء کو روکتا ہے اس کی صلا حیتوں کو بانجھ کرتا ہے کیا آپ قیدی سے مطالبہ کرسکتے ہیں؟کہ وہ قید ہونے کے باوجود آپ کی معاملات زندگی میں شامل ہوجائے اسی طرح غلام سے یہ مطالبہ کیاجا ئے کہ وہ بین الاقوامی ترقی وتعمیر سائنس ،تکنیک کے دوڑمیں شامل ہوجائے ۔آذادی کا مطلب بین الاقوامی برابری ہے کہ بلوچ کسی دوسرے قوم سے کم نہیں ہے غلام ضرور رہا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی دوسرے بین الاقوامی سے کم ہے کوئی کسی کو آزادی نہیں دیتا غلامی کی گندگیوں اور بے راہ رویوں سے نہیں نکال سکتا ۔ آزادی اولیت رکھتی ہے نظام کے لئے آزاد قوم اور آزاد جغرافیہ کا ہونا لازمی ہے سویت یونین تھا، سوشلزم تھا ہم اس وقت بھی غلام تھے۔ سویت سوشلزم نے ہمیں آذاد نہیں کیا محض تھیوریوں سے قومیں آذاد نہیں ہوتے اسلئے فکر کے ساتھ عمل ضروری ہے کوئی کسی کی جنگ کے لئے اپنا خون نہیں دیتا اپنے بازو اور کندھے نہیں دیتا سب ڈاکٹر چے نہیں ہوتے کہ وہ ہر محکو م کے جنگ میں جسمانی طور پر شامل ہوسکے ۔ کوئی کسی کو مدد کے طور پر انسانی ہمدردی کے ناطے پر ہتھیار ضرور دیگا

لیکن جسمانی طورپرآزادی کاجنگ بلوچ کو شہید بالاچ، سنگت شہید نورمحمد بلوچ ،بلوچ شہداء اور بلوچ سرمچار کی طرح خود لڑنا پڑیگااپنے کندھوں پر اپنے بازؤن کی طاقت سے اپنے خون کی قیمت سے سرفروشی سے قطعی تبدیلی آسکتی ہے اور آج بلوچ اس جانب اس شاہراہ پر جنگ سے جنگ کاراستہ روکنے کے لئے قدم بڑھایا ہے تاکہ ایک آزاد بلوچ سماج کی تعمیر وتشکیل ممکن ہوسکے جہان بلوچ کسی بین الاقوامی سے پسماندہ اور پیچھے نہ رہ جائے جب سوشلزم تھا تو اس وقت بھی بلوچ کو دووقت روٹی میسر نہیں تھااس وقت بھی اس کے پاؤن ننگے تھیں اور آج بھی اسے چھت میسر نہیں اس وقت بھی بلوچ ملیریا ، تپ دق اور عام بیماریون (جو آج کے دنیا مین بیماری شمار نہیں ہوتے) مرتاتھا آج بھی بلوچ انہی بیماریون سے مررہاہے اس وقت روس ورلڈپاور تھا، کہتے ہیں آج امریکہ سپرپاور ہے کہاجاتاہے دنیا گلوبل ٹینٹ بن چکا ہے کہتے ہیں میرے خیال میں دنیا کی سائنسی عروج اتھل پھتل ہماری حالت نہیں بدلی ماؤ کا چینا اپنی حالت بدلی لیکن ہماری نسل کشی کے لئے وہ بھی کالونائزر کو مزید صحت مند اور توانا رکھنا چاہتاہے امریکہ یہی کرنا چاہتا ہے۔ ہم غلامی اور بدتر غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں طویل سمندر کے مالک بلوچ سمندر جوخوراک کا بڑا زریعہ ہے اس کے کنارے بھوکا سوتا ہے لاکھوں ایکڑ زمینوں کا مالک بلوچ ایک روٹی کے نوالہ کو تڑپتاہے گیس پیدا کرنے والی زمین کے بلوچ اپنی جنگلات کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ زیر زمین تیل کے دریا بہتے ہیں اور زمین اور زمین کے اوپر غربت اور معاشی بدحالی اپنے عروج ہے اس حالت تک بلوچ کو کالونائزر نے لایا ہے اگر پھر بھی کوئی کہے کہ بلوچ اور پنجابی لازم وملزوم ہیں تو سردارمری کاکہناہے کہ اس سے براہ انسان کوئی نہیں ہے جن میں عزت نفس نہیں ہے اگر جس میں عزت نفس ہو اس کے لئے موت بہتر ہے۔ لہذانیشنلزم قیمت مانگتی ہے جو دینی پڑتی ہے محض محبت نہیں محض ادھورے جزباتی وابسطگی ور لفاظیت
کی حد تک آزادی کی بات کرنا نیشنلزم نہیں رومانس یا پروفیشنلزم ہوسکتا ہے۔ یاد پڑتاہے کہ شہید نوروز کی تعزیت کے لئےْ قلات آنے والوں میں بی این پی عوامی کا مہیم خان بھی آیا تھا سب غم باٹنے آئے اور فاتحہ پڑھنے آئے تھے ہم بھی اتفاق سے موجود تھے مہیم خان ایک دم بغیر کسی ٹہراؤ کی تقریر شروع کی سوشیالوجی کہتاہے کہ ہر ادارہ یا ہر مجلس کے وظائف مختلف ہوتے ہیں تقریر کے لئے جلسہ اور نماز کے لئے مسجد ۔ ہم نے دیکھا مہیم خان اس قدر جذبات کے رومیں بہہ گئے کہ اسے معروضی حالات صوبائی بلو چستان یا پنجابی مراسم یاد نہیں آیا آذادی اور آزاد بلوچستان ان کا موضوع ٹہرا ایک ساتھی نے راستہ میں کہا سنگت یہ مہیم خان کیسے نیشلسٹ ہے دیکھا اس نے آزاد بلوچستان کی بات کی ہم مفت میں انہیں گالی دیتے ہیں دودن نہ گزرے مہیم خان کا ایک بیان اخبار میں آیا کہ ہم آذادی نہیں صوبائی خودمختیاری چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ غم دیکھ کر جذبات کے رو میں بہہ کر جلسہ دیکھ کرغم بانٹنے میں آزادی کی لفاضیت مہیم خان کی غم دوران نیشنلزم نہیںیہ غلامی کا علاج نہیں ہے علاج عمل ہے قطعی عمل جنگ میں اپنی وجود کو جھونکھناکچھ وزن اٹھانا ضروری ہوتا ہے جنگ مین محض روحانی وابستگی نہیں اپنے جسم اور کل وجود کو جھونکنا ’’عقب میں حمایت نہیں ‘‘ہم قدم ہوکر لڑنا نیشنلزم ہے ۔مجلس دیکھ کر غم کی حد تک وابستگی حبس بن جاتی ہے طوفان نہیں طوفان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب کچھ اکھاڑکر لے جاتی ہے اور حبس محض دھول بن کرتھم جاتی ہے غم کیفیت کا ایک ذہنی تسکین ہوتا ہے محض محبت ذہن سے کچھ بوجھ ہلکا کرتا ہے لیکن دشمن پر بھاری نہیں ہوتا محض ذہنی تسکین کے لئے وابسطگی کا اظہار ٹھیک نہیں قیمت دینے کی بات کرنی چاہیے بقول سردار مری کہ کونسا بلوچ کیا قیمت دیگا ؟خون پسینہ اس کے لئے شرائط کا ہونا لازمی ہے ۔آذادی کی بات کرنا اور دوسرے دن فائل بغل میں لے کر نوکری ڈھونڈنا بیرون ملک کے لئے پاسپورٹ تیار کرنا کہ اب دشمن ہماراپیچھاکررہائے ہم اب یہان محفوظ نہیں کل ہمارے گھر چھاپہ آئے گا پرسون آئے گا ہمین فون پر دھمکی ملی ہے ہم نے بہت قربانی دی ہے لوگون کو قومی شعور دیا ہے بس اب ہم فارغ ہے ہم نے اپنے قرض اتاراہے میرے خیال میں اس طرح قرض نہیں چکتے، انقلابی اور بابو میں فرق کرنا ہوگا۔
سب کامریڈبنتے ہیں احسان جتاتے ہیں احسان کس پر ہمیں راہ عمل کا تعین کرنا ہوگا میدان چھوڑ کر جنگ نہیں لڑی جا سکتی ۔بلوچ روایتون اور قدرون ،حساسیت اور شعور کو مد نظر رکھا جائے تو نیشنلزم سے وفاداری ایمان اور ایمان کی حدود سے بھی بلند اعلی اور مستحکم ہے مرضی کی ساتھی نہیں کہ آیا مرضی ہے نہیں آیاٹھیک اس میں شرائط کا ہونا لازمی ہے بعض ساتھی تھے اس وقت سٹیج کے توپچی تھے آج وہ این جی اوز کی بھاری تنخوالے کر نوکری کرتے ہین پوچھا یہ’’ نیشنلزم ‘‘کہتے ہیں کہ ہم اس وقت جذباتی تھے ہمیں ٹیکنیکل بن چاہیے کچھ ڈپلومیسی اور ٹیکٹس استعمال کرنا چاہیے تعلیم پر توجہ دینی چاہیے ہم نے کہا اللہ نذر گولڈمیڈلسٹ لے کر بھی جوکھٹن راستہ اختیار کیا وہ آپ بھول گئے اللہ نذر سے سنگتی اور وفاداری یہی ہے سنگت یہ اللہ نذر کا راستہ نہیں ہے جو آپ نے چناہے اللہ نذر جو راستہ چنا وہ س جہد آزادی کاراستہ ہے بابو گری کا نہیں۔۔۔۔
اللہ نذر کہتاہے کہ جنگ آزادی بے حس ہوکر نہیں لڑی جاتی ؒ لڑنے کے لئے جزبہ ضروری ہے لیکن جذبہ ایسا ہو کہ ما سوائے اس کی منطقی انجام کے اسے کوئی چیز ٹھنڈا نہ کرسکے ۔کہتے ہیں دوست ، ساتھی کہ ہمارے پاس ادارہ ہے شاید مجھے اختلاف ہو کمزور ادارہ ہے یاپھر کہ سکتاہوں اجتماع ہے تنظیم نہیں تنظیم ہوتی تو الفاظ میں شعلہ پیدا کرنے والے کہورخان کی طرح بابو نہیں بنتے جسے ہم افرادی قوت کہتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بکھر جاتاہے وہ ممبر شپ نہیں رہتی جو تھی ،منتشر ہوجاتی ہے ، ٹوٹ جاتی ہے ، بدل جاتی ہے راہ سے ہٹ جاتی ہے تعداد ہے معیار نہیں گوریلا جنگ کی بات کرتے ہیں لیکن ہمارے قدمون کی نشان پھرسیکڑیٹ میں دیکھی جاتی ہے ہم کیسا نیشلسٹ ہے کیسے کا مریڈ ہے ھیروازم کا رجحان بڑھ رہا ہے وقت سب سے بڑا سپریم کونسل ہے عوامی عدالت کو ہم جواب دہ ہیں عوام کو جمع کرتے ہیں عوام کو احتساب کرنے دیں
۔ میں کہتاہوں کہ ہم میں نیشنلزم ہونا چاہے پروفیشنلزم نہیں ہم آہستہ رو صحیح ، نیشنلزم سے ہی دشمن پر حاوی ہوسکتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری افرادی قوت ریاستی قوت بن کر ان کی دفتروں کی زینت بنتاہے وہی عمل آج بھی جاری ہے ہمارے جماعتوں کے کیڈر کہور خان کے دور میں بیرو کریسی کے عہدے لیکر ان کے ریڈیکلزم بک جاتی تھی اور آج بھی بعض جو کہتے ہیں کہ ہم نیشلسٹ ہے یہ کیسے نیشلسٹ ہے جو’’ توانا پاکستان ‘‘میں کام کرتے ہیں این جی اوز سے بھاری پیسہ لے کر عوام کو گلوبائزیشن جیسے فکر ونظر سے الجھاتے ہیں میں کہتاہوں تنظیم ہے تو چیک اینڈبیلنس ہونا چاہیے کیا ہم دوسال کے لئے حلف لیتے ہین؟ہماری وفاداری دوسال کے لئے ہوتی ہے ؟ کیا وطن کا قرض صرف دوسال میں چک جاتی ہے یہ جدوجہد آذادی کے لئے ہے ہاسٹل اور کمرہ تک رسائی نہیں ہے بس مرضی کی ساتھی ہے آیا ٹھیک نہیں آیا مرضی ہے ۔مرضی کے انقلابی نہیں شرائط کے انقلابی چاہیے ؟ وزن اٹھانا چاہیے بوجھ کہے رسک کہے جو بھی کہے اس جنگ کو ہر محاذپہ لڑنا ہوگا یہ جنگ آپ کی آزادی کی جنگ ہے یہ آپ کی علم سائنس تکنیک کی جنگ ہے ؟ سوال حمایت کی نہیں ہے سوال یہ ہے کہ ہم کتنا وزن اٹھا سکتے ہین اور کونسا محاذکو لڑنے کے لئے انتخاب کرتے ہیں سیاسی جدوجہد مسلح جدوجہد کا اٹوٹ حصہ ہے اور مسلح جدوجہد جنگ لڑنے کا طاقتور ترین زریعہ ہے ہمیں چاہیے کہ ہم سرمچارون کی ہم راہ بن کر ہم قدم بن کر اس جنگ کو لڑین اور اس لڑائی کے لئے محض حمایت کافی نہیں بلوچ سرمچار ون کاراستہ اپنائے شہیدون کے ساتھ عقیدت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ ان کی سرمچاری قافلہ میں شامل ہوجائین سرمچارون کاراستہ شہید سہراب مری اور نور محمد بلوچ کاراستہ ہے یہ امیر بخش کا راستہ ہے یہ شہید بالاچ کا راہ عمل ہے راہ عمل کاتعین بلوچ نیشنلزم ہے

Previous post

بلوچ قوم کے سپریم لیڈر سردار مری کی وفات قومی سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے ان کی تاریخی و نظریاتی جدوجہد اور مثالی کردار ہمارے لئے ایک ورثہ ہے سردار مری کی موت قدرتی نہیں انہیں مارنے کے لئے عام طریقوں سے ہٹ کرنئے حربہ استعمال کئے گئے

Next post

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی کے لئےآگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری