×

ڈگری گرلز کالج کینٹ کوئٹہ میں پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کی طالبات کی جانب سے بلوچ گہار موومنٹ کے ممبر ناز بلوچ اور ان کے دیگر ساتھی طالبات پرحملہ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت بلوچ گہار موومنٹ

ڈگری گرلز کالج کینٹ کوئٹہ میں پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کی طالبات کی جانب سے بلوچ گہار موومنٹ کے ممبر ناز بلوچ اور ان کے دیگر ساتھی طالبات پرحملہ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت بلوچ گہار موومنٹ

4.12.2013
بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے ڈگری گرلز کالج کینٹ کوئٹہ میں پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کی طالبات کی جانب سے بلوچ گہار موومنٹ کے ممبر ناز بلوچ اور ان کے دیگر ساتھی طالبات پرحملہ اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قابض ریاست اور ان کے مقامی ایجنٹ بلوچ قوم کے خلاف نت نئے طریقوں سے واردات کا سلسلہ شروع کرکے تعلیمی اداروں میں اپنی دادا گری اور بدمعاشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے گزشتہ دنوں گرلز کالج کینٹ کوئٹہ میں ہزارہ اور پشتوں طالبات نے مل کر ایک بلوچ طالبہ پر حملہ کرکے انہیں شدید زدوکوب کیا اور ان کے ساتھ ناقابل برداشت اور نازیبا رویہ اختیار کیااور کھل کر بلوچوں کے خلاف کالج میں نہ صرف نعرے لگائے بلکہ بلوچ طالبہ کے بے عزتی پر فخر محسوس کرتے ہوئے زور زور سے چیخنا اور چلا نا شروع کردیئے جس پر بلوچ گہار موومنٹ کے اراکین اور شہید بالاچ یونٹ سے منسلک بلوچ طالبات نے مشتعل ہوکر ہزارہ اور پشتوں طالبات کی ناقابل برداشت رویہ اور بلوچ طالبہ پر تشدد کے رد عمل میں کالج میں تھوڑ پھوڑ کی اور کالج کے جھنڈے کو اکھاکڑ پھینک کر نہ صرف کمروں کے شیشہ توڑ دیئے بلکہ کمروں میں آویزان نام نہاد پاکستانی مجاوروں کی تصاویریں بھی اتاریں جس پر طیش میں آکر ہزارہ اور پشتوں کمیونٹی کے 50کے قریب طالبات نے بلوچ گہار موومنٹ کے اراکیں اور مشتعل بلوچ طالبات پر حملہ کئے اورانہیں شدید زدوکوب کرکے لہو لہان کردیا اور بلوچ گہار موومنٹ کے ممبر ناز بلوچ پر بہت زیادہ تشدد کی جس سے وہ بیہوش ہوگئی کالج انتظامیہ کے مداخلت پر حملہ آورپشتوں اور ہزارہ طالبات پیچھے ہٹ گئے اور مشتعل بلوچ طالبات کالج انتظامیہ کے اصراراور درخواست پر اپنی احتجاجی سلسلہ کو ختم کردیا جب کہ بلوچ گہار موومنٹ کے سینیئرممبر ناز بلوچ ہسپتال میں زیر علاج ہے اور انہیں طبی امداد دی جارہی ہے ان کے سر پر چوٹیں آئی ہیں اور شدید تشدد کی وجہ سے ان کے گردے بھی متاثر ہوچکی ہے ترجمان نے گرلز کالج واقعہ کو قومی توہین کی مترادف قرار دیتے ہوئے کہاکہ واقعہ قومی سانحہ سے کم نہیں ہزارہ اور پشتوں کمیونٹی کے طالبات کی جانب بلوچ طالبات پر حملہ اور تشددایک سادہ معاملہ نہیں بلکہ منظم منصوبہ ہے جس میں ریاستی ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کالج میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ حیوانیت کی انتہا ہے ہم پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کوواشگاف الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ وطن پر اپنی بدمعاشی اور دادا گیری کا سلسلہ بند کر کے اپنی منٖفی رویوں سے باز آجائیں اور بلوچ طالبات سے ناروا سلوک کا سلسلہ ختم کرکے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری ترک کریں واقعہ پشتوں اور ہزارہ کمیونٹی کے خلاف بلوچ قوم کی نفرت اور انتقام کو بھڑکانے کی دانستہ اور شعوری کوشش ہے اگر بلوچ وطن پر ہمیں جینے کا حق نہیں تو پھر ہم کسی بھی مصلحت خاطر داری اور لحاظ سے بالاتر ہوکر قومی سطح پر بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کریں گے اس قسم کے بزدلانہ اور وحشیانہ حملوں سے ہمیں اپنی عظیم مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹائی جاسکتی ترجمان نے کہاکہ حالانکہ بلوچ گہار موومنٹ کا ردعمل اور بلوچ طالبات کا مشتعل ہونا ایک فطری اور جمہوری عمل تھی لیکن ریاست کے زرخرید ایجنٹوں اور پنجابی خیمہ بردار طالبات کو یہ عمل گہوارہ نہیں ہو ائی اور جس پر وہ بدمعاشی پر اتر آئی انہیں اپنی دہشت گردانہ زہنیت کے خول سے باہر آنی چاہیے اور بلوچ سر زمین پر بیٹھ کر انہیں بلوچ قوم کی مشفقانہ اور ہمدردانہ رویوں کا ناجائزہ فائدہ نہیں اٹھا نی چاہیے پشتوں اور ہزارہ زمہ داروں کو اپنے اس کرمنل اور غیر زمہ دار گروہ کا نوٹس لینا چاہیے جو تعلیمی اداروں میں بلوچ مخالف سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کرکے پشتوں ہزارہ اور بلوچ قوم کے درمیان دانستہ لڑائی کا ماحول پیدا کرکے صورتحال کو انتہائی خطرناک رخ پہ ڈالنے کی مکروہ کوشش کررہی ہ

Previous post

جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما اوربین الاقوامی لیجنڈنیلسن منڈیلا کی وفات پر افریقی قوم سمیت افریقن نیشنل کانگریس کے قیادت اور اراکین سے دلی دکھ اور افسوس کا اظہار نیلسن منڈیلا کا کردار تمام مقبوضہ اور غلام اقوام کے لئے مشعل راہ ہے۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

ریاست بلوچ وطن کو آرمی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے خضدار خاران نال گریشہ پنجگور مشکے آواران ڈیرہ بگٹی صحبت پورسمیت بلوچستان بھر میں ریاستی دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان انڈیپینڈس موومنٹ