×

کراچی کو ایک منصوبہ کے تحت مغوی بلوچوں کا مدفن بنایا جارہا ہے شہید عبدالرحمان بلوچ شہید زائد بلوچ اور شہید دوست محمد بلوچ کو خراج تحسین بلوچ سالویشن فرنٹ

کراچی کو ایک منصوبہ کے تحت مغوی بلوچوں کا مدفن بنایا جارہا ہے شہید عبدالرحمان بلوچ شہید زائد بلوچ اور شہید دوست محمد بلوچ کو خراج تحسین بلوچ سالویشن فرنٹ

11.3.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہاہے کہ کراچی کو ایک منصوبہ کے تحت مغوی بلوچوں کا مدفن بنایا جارہا ہے گزشتہ ایک ماہ سے کئی جہدکار بلوچ فرزندوں کو اغواء کرکے شہید کرنے کے بعد کراچی کے ویرانوں میں پھینکا جارہاہے جو کہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اقوام متحدہ سمیت عالمی میڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے ریاستی میڈیا کی خاموشی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن عالمی میڈیا کی مصلحت پسندی اور زبان بندی نہ صرف حیران کن ہے بلکہ ان کا جانبدارانہ رویہ ان کے ایماندارانہ صحافتی کردار کو بھی مشکوک بنادیا ہے صورتحال سے لگتاہے کہ عالمی میڈیا بلواسطہ یا براہ راست بلوچ نسل کشی میں ملوث قابض ریاست کے گھناؤنے کردار پر پردہ پوشی کرکے ان کے جرائم کو دانستہ انداز میں تحفظ فراہم کررہاہے جو لمحہ فکریہ ہے ترجمان نے شہید عبدالرحمان بلوچ شہید زائد بلوچ اور شہید دوست محمد بلوچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خون رائیگان نہیںآزادی کے فکر سے لیس بلوچ سپوتوں کو شہید کرکے ان کے مقصد کو شہید نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی آدرش کو بانجھ کیا جاسکتا ہے بلکہ قابض اس طرح کے ہتکھنڈوں سے در اصل اپنی مرگ کاسامان پیدا کررہی ہے ترجمان نے کہا کہ کمیوفلاج پروفیشنلسٹ کاروباری پارٹیاں بلوچ نسل کشی میں ریاست سے دودو ہاتھ ہیں اتنے بڑے پیمانے پر کہ جہاں خاک وطن شہداء کے لہوسے سرخ ہوچکی ہے ہیں ہزارون بلوچ شہداء جس بہادری اور ایمانداری سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی شہادت کو ترجیح دے رہی ہے لیکن بانجھ انتخابی سیاست کے ریاستی حاشیہ بردار اور ضمیر فروش ریاست سے ہاتھ ملانے پر شرمسار ہونے کے بجائے فخر محسوس کررہے ہیں اور نام نہاد آئینی دائرے اور بوسیدہ جمہوریت کے نام پر بلوچ قوم سے غداری کررہے ہیں ترجما ن نے کہا کہ ڈیتھ سکواڈ گروپس اور پارلیمانی جماعتوں کا کردار ایک دوسرے سے مختلف نہیں دونوں ایک ہی ایجنڈا پر کام کررہے ہیں صرف طریقہ کار محتلف ہے بنگلہ دیش میں بھی الشمس اور البدر کے تنظیمون کے زریعہ بڑے پیمانے پربنگلہ دیشیون کے نسل کشی کی گئی وہان بھی مذہب کو استعمال کیا گیا الشمس اور البدر کی تنظیموں میں جماعت اسلامی جیسے مذہبی جماعتیں شامل تھیں لیکن انکی اس طرح کے مکروہ ہتکھنڈوں نے بنگلہ دیش کی آزاد ی میں رکاوٹ نہ بن سکی جو آج بھی بنگلہ دیش میں نہ صرف جنگی مجرم کے حیثیت سے یاد کئے جاتے ہیں بلکہ الشمس البدر کے وہی لوگ بنگلہ دیشی وار ٹریبونل کا سامنا کرکے سزاء پارہے ہیں ترجمان نے کہا کہ جس طرح بنگال کے لوگوں نے دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کرکے آزادی حیثیت حاصل کرلی بلوچ جنگ آزادی بھی ان کے ناجائز قبضہ کو بحر بلوچ میں غرق کرکے دم لے گی

Previous post

شہداء نے اپنے فکر وعمل اور عظیم قربانی سے جس فکر کی آبیاری کی ان کی جسمانی جدائی کی خلاء ان کے فکر و نظریہ و آدرش اور حوصلہ پوراکرتے رہیں گے ان کی شہادت ہمیں قبضہ دہشت گردی ناانصافی اور غلامی سے ٹکراجانے کا حوصلہ اور قوت عطاء کرتا ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

شہید بابو افتخار اور شہید مقبول بلوچ کی لازوال قربانی اور بے مثل شجاعت کھبی نہ بجھنے والی مشعل آزادی کی مانند آنے والے بلوچ نسلوں کو وطن کی مٹی حرمت اور دفاع پر قربان ہونے کا راستہ دکھاتی رہے گی بلوچ سالویشن فرنٹ