کردخواتین رہنماؤں کی قتل کردستان کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی منصوبہ ہے ان رہنماؤں کی قتل ترک خفیہ اداروں کی اشارہ پر کیا گیا ہے جو کہ ترکی کے ساتھ مزاکرات کی میز پر آنے کے بجائے آزاد کردستان کو ہی کرد قومی کی تحریک کے بنیادی منطقی اہداف سمجھتے تھے ترجما
ْْ 11.2.2013
بلوچ وطن موومنٹ بلوچستا ن انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ نے اپنے جاری کردہ ترجمان میں کردستان کی قومی آزادی کی تحریک کے تین خواتین رہنماؤں کی قتل شہادت کی مزمت کرتے ہوئے انہیں ان کی شاندار شہادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کا کردستان کی آزادی کی تحریک میں اہم رول تھا ان کی قتل سے کرد تحریک میں مزید شدت اور ابھار پیدا ہوگا کردخواتین رہنماؤں کی قتل کردستان کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی منصوبہ ہے ان رہنماؤں کی قتل ترک خفیہ اداروں کی اشارہ پر کیا گیا ہے جو کہ ترکی کے ساتھ مزاکرات کی میز پر آنے کے بجائے آزاد کردستان کو ہی کرد قومی کی تحریک کے بنیادی منطقی اہداف سمجھتے تھے ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ عالمی دہشت گردی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ اس مکروہ کاروائی کی مزمت کرتے ہوئے آزاد کردریاست کی حمایت کرتی ہوئے واضح کرتاہے کہ دنیا بھرکی قومی آزادی کی تحریکوں کا مقصد اور نصب العین ایک ہے لیکن ان تحریکون کو طاقت اور دہشت گردی کے زریعہ کچلنے کی جو پالیسی دنیا کے قابض ممالک نے اپنائی ہے اس سے یہ رکنے کے بجائے مزید ابھر کر سامنے آئیں گے کیونکہ قومی تحریکں ایک وژن اور ایک مقصد سے منسلک ہوتے ہین وہ عام بغاوتیں یا شورش کے بجائے مکمل قومی آزادی کی جنگ کے طریقہ کار اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں لیکن آج ان تحریکوں کی روح اور ایجنڈا سے چشم پوشی کرکے قابض ریاستیں قتل عام اور نسل کشی کو ترجیح دے کر یا پھر نام نہاد مصالحتی مزاکرات کے زریعہ مسئلہ کا غیر منطقی حل ڈھونڈھنے کی لا حاصل کوشش کرتے ہوئے خونریزی کے اس سلسلے کو طول اور دوام کے علاوہ کسی قسم کی پیش رفت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں ترجمان نے کہا کہ قابض قوتوں کی شکست کھبی خاموشی سے عمل میں نہیں آتے بلکہ خاموشی مقبوضہ قوم کی شکست و ریخت اور بربادی کا سامان پیدا کرتی ہے اسلئے تاریخ میں مقبوضہ قومون کو کی تاریخ ہمیشہ خون آلود نظر آتی ہے کیونکہ غلامی کی زلت سے نکلنے کیلئے ان کے لئے فیصلہ کن اور پرپیچ راستوں کا انتخاب ناگزیر ہوتا ہے
Back


