کلیم اللہ موسیانی ایک قوم دوست اورعام شہری ہیں ان کے والد میر عبدالکریم موسیانی کا قومی جہد میں اہم کردار رہاہے قاتلانہ حملہ ریاستی جارحیت ہے بلوچ سالویشن فرنٹ
24.11.2013
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے میر کلیم اللہ موسیانی پر قاتلانہ حملہ کو ریاستی جارحانہ کاروائیوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی ادارے بوکھلاہٹ کے عالم میں بلوچ قومی جہد کاروں کے ساتھ ساتھ اب عام بلوچ قوم دوست اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں میر کلیم اللہ موسیانی ایک قوم دوست اورعام شہری ہیں ان کے والد میر عبدالکریم موسیانی کا قومی جہد میں اہم کردار رہاہے وہ موسیانی قبیلہ کے سفید ریش اور بلوچ قوم دوست انسان تھے ان کے لازوال اور بیش بہا قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اب ان کی خاندان اور رشتہ داروں کو قوم دوستی اور وطن دوستی کے پاداش میں ہراساں کیا جارہاہے اس سے قبل ان کے خاندان اور رشتہ داروں کے گھروں پہ چھاپے اور چادر چاردیواری کی پائمالی اوراب میر کلیم اللہ موسیانی پر قاتلانہ حملہ ایک ہی منصوبہ کا حصہ ہے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز زہری کے علاقہ میں میر کلیم اللہ موسیانی پر قاتلانہ حملہ کئے گئے تاہم وہ اس حملے میں بال بال بچ گئے واقعہ ریاستی دہشت گردی ہے کا حصہ ہے ایسے واقعات سے بلوچ قوم کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ترجمان نے کہاکہ ریاست وسیع پیمانے پر بلوچ ہونے کے ناطے بلوچ عوام کے خلاف ماس کلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے اوربلا اشتعال عوام کی سرکوبی کرکے انہیں خاک و خون میں تڑپا جارہاہے اندھا دھند کاروائیوں کا سلسلہ صر ف ایک علاقہ میں نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں جاری ہیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ریاست نہ صرف اغوا گرفتاریوں اور قتل عام کا سلسلہ شروع کیا ہے ہے بلکہ خوف و ہراس کے تمام طریقہ استعمال کرکے بلوچ عوام کے لئے زمیں آسمان ایک کردی ہے ترجمان نے کہاکہ انسانی حقوق کے دفاع کے ڈھنڈورا پھیٹنے والے ممالک بلوچستان میں جاری بدتریں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر خاموش ہیں اور ان کے خاموشی سے فائدہ اٹھاکر ریاست ہرطرح کے جرائم کے ارتکاب کو جائز سمجھ کربلوچ عوام کو محصور کردیا ہے


