×

کیچ میں ریاستی فورسز کی ہاتھوں آٹھ سالہ معصوم بچہ چاکر بلوچ کی شہادت کا واقعہ جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے چاکر بلوچ کی شہادت سے واضح ہوتاہے کہ قابض فورسزبلوچ تحریک آزادی کے آگے مزید نہیں ٹہر سکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

کیچ میں ریاستی فورسز کی ہاتھوں آٹھ سالہ معصوم بچہ چاکر بلوچ کی شہادت کا واقعہ جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے چاکر بلوچ کی شہادت سے واضح ہوتاہے کہ قابض فورسزبلوچ تحریک آزادی کے آگے مزید نہیں ٹہر سکتا بلوچ سالویشن فرنٹ

11.1.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ کیچ میں ریاستی فورسز کی ہاتھوں آٹھ سالہ معصوم بچہ چاکر بلوچ کی شہادت کا واقعہ جاری ریاستی دہشت گردی کا تسلسل ہے چاکر بلوچ کی شہادت سے واضح ہوتاہے کہ قابض فورسزبلوچ تحریک آزادی کے آگے مزید نہیں ٹہر سکتا بلوچ بچہ بچہ اپنی آزادی کے صفوں میں کھڑے ہیں اس انقلابی ماحول سے خوف زدہ ہوکر ریاست اندھادھند کاروائیاں کرکے ماس کلنگ اور بلوچ نسل کشی کے سلسلوں میں شدت پیدا کردیا ہے ترجمان نے شہید چاکر بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کے پاک خوں مٹی میں میں جذب ہوکر قومی شعور کو آبیار کریگی اتنی کم عمری میں شہادت کا رتبہ حاصل کرنا قابل فخر ہے تاریخ ان کے آزادی سے والہانہ محبت اور مقدس جذبوں کو ہمیشہ دہراتی رہیگی شہادتیں جذبہ آزادی میں نکھار پیدا کرتی ہیں قربانی کے بغیر کسی کو بھی آزادی نہیں ملی آزادی بے پناہ قربانیوں اور طویل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہیں ہاتھ باندھ کر گھر بیٹھنے اور چپ رہنے سے دشمن کا غلبہ ختم نہیں ہوسکتا ترجمان نے کہاکہ آزادی کی تحریک ناقابل شکست اور قبضہ گیر کے لئے درد سر کا باعث بن چکاہے بلوچ تحریک کے فرنٹ لائن رہنماؤں کارکنوں اور دانشورں کو شہید کرنے اور مارنے اور خون بہانے کے سینکڑوں واقعات کے بعد بھی ریاست کو اپنی عملداری اور رٹ قائم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حربوں سے آزادی کی تحریک کو کمزور نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسے واقعات سے بلوچ قومی جذبوں کو جلا ملتی ہے ترجمان نے کہاکہ کچھ لوگ قوم پرستی آڑ میں آستین کے سانپ کا کردار ادا کرکے بلوچ آزادی کے حوالہ ریاست کے گھڑے ہوئے ڈس انفارمیشن اور غلیظ پروپیگنڈوں کا حصہ بن کر آزادی کو محض خواب قرار دیکر رائے عامہ کو گمراہ کررہے ہیں وہ دھرتی سے وفاداری کے بجائے ریاست کے دست بازو اور زبان بن کر نہ صرف بلوچ رائے عامہ کو آلودہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں بلکہ عالمی سطح پر قبضہ گیر کے لئے لابنگ کرکے بلوچ تحریک آزادی کو پاکستانی کا ندرونی مسئلہ قرار دیکر بین الاقوامی رائے عامہ میں بھی بلوچ قومی آزادی کے مخالف ریاستی سرگرمیوں میں شریک ہے ہم بین الاقوامی برادر ی پر واضح کرتے ہیں کہ بلوچ مسئلہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ بلوچ قوم کی آزادی اور ایک آزاد بلوچ ریاست کاقیام بلوچ قوم کا مسئلہ ہے اور تاریخی طور پر بلوچ جدوجہد اپنی سیاسی تاریخی اور منطقی جواز بھی رکھتی ہے جب کہ بلوچ عوام نے اپنا مینڈٹ آزادی کے حق میں دیا ہے جس کے واضح ثبوت ریاستی الیکشن ہے جس سے بلوچ قوم مکمل بائیکاٹ کرکے ووٹ کاسٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ تین فیصد سے کم ٹر ن آؤٹ ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے کہ بلوچ ریاستی قبضہ کو کسی بھی صور ت تسلیم نہیں کریں گے

Previous post

قلات میں بلوچ بچیوں کی بے رحمی کے ساتھ قتل اور ان کی لاشیں پھینکنے کا عمل قابل مذمت اور انسانی وقا ر کی منافی عمل ہے ایسے گھناؤنے واقعات کا ابھار بلوچ قومی و قبائلی روایات کے منافی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہاہے کہ مغربی بلوچستان میں ایرانی ریاست کے ہاتھوں انسانی حقو ق کے خلاف ورزیوں پر مبنی کاروائیوں کے روک تھام کے لئے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کردار اداکریں بلوچ سالویشن فرنٹ