×

گنداوہ میں بابو نوروز خان کے فرزندکے گھر پر چھاپے چادر اور چاردیواری کی پائمالی کی مذمت بلوچ مسئلہ کا حل آزادی ہے بلا جواز چھاپوں اور کریک ڈاؤں کا سیاہ باب آزادی کے حصول تک بند نہیں ہوں گے. ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

گنداوہ میں بابو نوروز خان کے فرزندکے گھر پر چھاپے چادر اور چاردیواری کی پائمالی کی مذمت بلوچ مسئلہ کا حل آزادی ہے بلا جواز چھاپوں اور کریک ڈاؤں کا سیاہ باب آزادی کے حصول تک بند نہیں ہوں گے. ۔بلوچ سالویشن فرنٹ

بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کی مرکزی ترجمان نے ریاستی فورسز کی جانب سے گنداوہ میں بابو نوروز خان کے فرزند میر امان اللہ زرکزئی کے گھر پر چھاپے چادر اور چاردیواری کی پائمالی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل گزشتہ سال زہری میں شہید بابونوروز خان کے گھر کو ریاستی اداروں کی جانب سے محاصرہ میں لے کر اسی طرح چادر و چاردیواری کی پائمالی کی گئی اور آس پاس آبادی کے خلاف بھی کریک ڈاؤں کیا گیا جبکہ گھر میں بابو نوروز کی بہو اور بیٹیوں کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا لیکن اس کے باوجود گھنٹوں کی گھر کی تلاشی کی گئی اور بعد ازان اسلحہ اور دیگر ایمونیشن کا ڈرامہ رچایا گیا میر امان اللہ کے خلاف گزشتہ کاروائیوں اور حالیہ چھاپوں اورتلاشیوں کی تسلسل کا ایک ہی کڑی ہے

ترجمان نے کہاکہ مقبوضہ بلوچستان میں محاصروں اور چھاپوں کی سیاہ تریں تاریخ ایک طویل تسلسل رکھتی ہے 1948سے لے کر اب تک کوئی بھی بلوچ حویلی اور خاندان ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ریاست بلوچ وطن کو عملا قید خانے میں تبدیل کردیاہے بلوچستان کے طول و عرض میں بلوچ آبادیوں کے خلاف کریک ڈاؤں اور محاصروں کے ساتھ بلاتعطل اور غیر اعلانیہ کرفیو کا سلسلہ جاری ہے ریاست کے ہاتھوں اب ہمارے شہداء کے آخری آرام گاہیں بھی محفوظ نہیں گزشتہ دنوں نیو کاہان مری کیمپ پر فورسز نے دھاوابول بلوچ شہداء کے مزاروں کی بے حرمتی کی گئی اور کئی بلوچ فرزندوں کو حراست میں لیا گیا تاکہ اس طرح کے کاروائیوں سے خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا جائے ترجمان نے کہاکہ 1948سے لے کر اب تک جتنابھی بلوچ قوم کا خون بہایا گیا ہے اس میں براہ راست ریاست ملوث ہے ریاست کے ہاتھ بلوچ خوں سے رنگیں ہے لیکن اس کے باوجودکچھ نادان ریاستی قبضہ سے آنکھیں چراکر پارلیمانی سیاست کے زریعہ قبضہ گیر کو ہمیں مارنے اور کچلنے کے لئے مزید موقع دینے کی سہی کررہے ہیں جبکہ بلوچ مسئلہ کا واحد حل آزادی ہے بلا جواز چھاپوں اور کریک ڈاؤں کی یہ سیاہ باب آزادی کے حصول تک بند نہیں ہوں گے ڈیلے ایکشن سیاست اور مصلحت پسندی سے ہم ڈنڈوں سے اپنا سر نہیں چھپاسکتے بجلی سڑک نوکری اور شہری حقوق کے نام پر پارلیمانی سیاست کا مقصد ریاستی قبضہ کو تسلط دینے کی ایک مہم ہے ترجمان نے کہاکہ انسانی حقو ق کے سنگین خلاف ورزیوں ریاستی قبضہ اور جارحیت کوبلوچستان میں ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کے زریعہ قانونی جواز دینے کی سعی لاحاصل کوشش کی جارہی ہے

Previous post

60اور70کے عشرے میں بلوچ قومی دفاع میں لڑنے والوں میں شہید علی محمد مینگل کا کلیدی کردار رہاہے علی محمد تاریخ میں زندہ اور اسکا اٹوٹ حصہ ہے ایسے قومی ہیروں کو کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچ سالویشن فرنٹ

Next post

آزاد بلوچستان کیلئے جدوجہد کررہا ہوں ، یہ دنیا میں بسے ہر فرد و قوم کا حق ہےکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے ۔ ، بلوچستان ایک خود مختار و آزاد ریاست تھی لیکن پاکستان نےہم پر قبضہ کرلیا۔ حیربیار مری