پاکستان کی مبینہ جارحیت اور افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتے ہیں بلوچ سالویشن فرنٹ
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ پالیسی بیان میں استعماری ریاست پاکستان کی جانب سے افغانستان پر مبینہ مسلسل دراندازی، جارحیت اور فضائی بمباری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی بلکہ افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی و داخلی امن پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے مجرمانہ حملے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ایک خودمختار ملک کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو تہ و بالا کرنے کی ایک مذموم سازش بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، جو برطانوی سامراجی بندوبست کے تحت تشکیل دیا گیا، دراصل عالمی سامراجی نظام کی ایک توسیع ہے، جبکہ افغانستان تاریخی طور پر ایک آزاد، خودمختار اور مزاحمتی قوم کا حامل ملک رہا ہے، جس کے عوام نے ہمیشہ بیرونی تسلط کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ترجمان نے افغانستان کی تزویراتی اور جیوپولیٹیکل اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک کلیدی جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ تاریخی شاہراہوں اور تہذیبی گزرگاہوں کا مرکز رہا ہے اور آج بھی عالمی طاقتوں کے مابین مسابقت کا محور بنا ہوا ہے۔ اس تناظر میں افغانستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ اور پشتون اقوام کے تاریخی، ثقافتی اور سماجی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رشتہ محض جغرافیائی قربت تک محدود نہیں بلکہ صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، روایات اور جدوجہد پر مبنی ہے۔ دونوں اقوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھا اور بیرونی مداخلت کے خلاف مشترکہ مزاحمت کی روایت قائم رکھی ہے۔ جب کہ بلوچ اور افغان اقوام کے درمیان یہ تاریخی تعلق باہمی احترام، خودمختاری اور آزادی کے اصولوں پر استوار ہے، جسے کسی بھی غیر فطری ریاستی دباؤ جبر یا جارحیت کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
تر جمان نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور افغانستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں، تاکہ خطہ مزید کشیدگی اور ممکنہ انسانی المیوں سے محفوظ رہ سکے۔ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان نے تاریخی طور پر ہر اس خارجی و داخلی دباؤ کو ناکام بنایا ہے جس کا مقصد اس کی خودمختاری اور قومی وقار کو مجروح کرنا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کے وہ تزویراتی عزائم، جو ماضی میں ’’اسٹریٹیجک ڈیپتھ‘‘ کے نظریے کے تحت پروان چڑھائے گئے، آج کے افغانستان میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
تر جمان نے کہا ہے کہ موجودہ افغانستان نہ کسی بیرونی ریاستی حکمت عملی کا تابع ہے اور نہ ہی ڈیورنڈ لائن کو ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر قبول کرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی پالیسیوں کو خطے میں کشیدگی کے فروغ اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے آلۂ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ جیوپولیٹیکل مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں بیرونی طاقتوں کو بارہا مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ افغان قوم کی مزاحمتی روایت، خودمختاری سے وابستگی اور قومی وقار کے تحفظ کا عزم اس کی سیاسی شناخت کا بنیادی جزو ہیں۔
تر جمان نے کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین انسانی المیہ اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں چار سو سے زائد بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل ننگرہار اور پکتیکا میں بھی سول آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افغان شہری جاں بحق ہوئے۔ نہتے شہریوں پر اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور اخلاقی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جس مقام کو حالیہ حملے میں نشانہ بنایا گیا، وہ ماضی میں ’کیمپ فینکس‘ کے نام سے ایک امریکی عسکری تربیتی مرکز تھا، جسے 2017 میں منشیات کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ 2021 کے بعد بھی یہ مرکز فعال رہا، جہاں کابل اور اس کے گرد و نواح سے نشے کے عادی افراد کو علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ مقام ایک غیر عسکری اور انسانی فلاحی ادارہ تھا، جسے نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں عدم استحکام، کشیدگی اور بداعتمادی کو فروغ دیتے ہیں، جو وسیع تر علاقائی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کی خاموشی ایسے واقعات کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہوگی۔ ترجمان نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیں، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں اور ذمہ دار عناصر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
