عمران فاروق قتل میں ملوث ملزمان کے بدلے بلوچ رہنماء کے حوالگی کا مطالبہ مضحکہ خیز اور گمراہ کن ہے عالمی سطح بلوچ قوم کی سفارتی فتح سے قبضہ گیر بوکھلائٹ اور بے چینی کا شکارہے بلوچ سالویشن فرنٹ
1.3.2014
بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری بیان میں عمران فاروق قتل کیس میں مبینہ ملزمان کے بدلے میں قبضہ گیر ریاست کی جانب سے بیرون ملک مقیم بلوچ قوم دوست رہنماء میر حیر بیار مری اور جاوید مینگل کی حوالگی کے مطالبہ کو مضحکہ خیزاور ریاست کی پست زہنیت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ عمران فاروق قتل کیس میں خود ایم کیو ایم ملوث ہے اور اس سلسلے میں الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ اور تلاشی اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ عمران فاروق کو کس نے قتل کیا اور اس کے قتل کے محرکات اور جڑیں کہاں ملتی ہیں جبکہ عمران فاروق کے قتل میں مبینہ ملزمان کو قبضہ گیر زرداری حکومت کے ادوار میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں برطانیہ حکومت مکمل آگاہ تھے کہ متزکرہ ملزمان پاکستانی ریاست کے تحویل میں ہے جنہیں سری لنکا ء سے آتے ہوئے حراست میں لئے گئے تھے لیکن اس وقت قبضہ گیر ریاست ان کی گرفتاری بارے مجرمانہ طور پر انکاری رہا لیکن اب بلوچستان لبریشن چارٹر کو پبلک کرنے کے فیصلہ اور بین الاقوامی سطح پر سنگت حیر بیار مری کی نتیجہ خیز اور کا میاب سفارت کاری اور سفارتی عمل میں تیزی لانے کے بعد ایک دم سے ریاست تیور بدل کر نئی چال کے ساتھ اپنی عبرت ناک شکست اور خفت کو مٹانے کے لئے کروٹ بدل رہی ہے عمران فاروق قتل میں ملوث ملزمان کے بدلے بلوچ رہنماء کے حوالگی کے گمراہ کن مطالبہ سے ریاست کا یہ راز بھی فاش ہوگیا کہ مہاجر تنظیم ایم کیو ایم سے وابسطہ عمران فاروق کے قتل میں ملوث ملزمان ان کی تحویل میں ہے اور عمران فاروق کے قتل ریاست کی ایک منظم سازش تھی جنہیں بلوچ رہنماء کے خلاف ایک کارڈ کے طور پر استعمال کر نے کے لئے قتل کیا گیا لیکن ریاست کے مکروہ چالوں اور غلط پالیسیوں سے پوری دنیا آگاہ ہے اور وہ اپنی منفی اور دہشت گردانہ زہنیت کے باعث عالمی دنیا کے لئے نہ صرف درد سر بنی ہو ئی ہے بلکہ ان کا مجموعی کردار جگ ہنسائی کا سبب بن چکی ہے اب ان کے خالق ان سے ہاتھ کھینچنے کے لئے سوچ بچار کر رہی ہے جب کہ بلوچ موقف کو عالمی سطح پر پزیرائی اور حمایت مل رہی ہے تر جمان نے کہا ہے کہ بلوچ رہنماء کی حوالگی کا مطالبہ میر حیر بیار مری کی بین الاقوامی سطح پر سفارتی فتح سے ریاست کی بوکھلاہٹ اور بے چینی کو ظاہر کرتی ہے اس سے قبل بھی بلوچ رہنماء کے خلاف پاکستانی ریاست کی جانب سے مجرمانہ طور پر سازشیں کی جاتی رہیں اور عالمی رائے عامہ میں ان کے خلاف زہریلے پروپیگنڈہ کی جاتی رہی جبکہ قبضہ گیر ریاست کی ایماء پر برطانیہ میں ان کے خلاف نام نہاد دہشت گردی کی مقدمات چلائے گئے لیکن برطانیہ جیوری میں اپنے ٹرائل کے دوران انہوں نے قومی آزادی کے دوٹوک موقف کے ساتھ بلوچ جدوجہد کے پس منظر اور بلوچ وطن پر ریاست کی جبری قبضہ اور ریاستی دہشت گردی اور کاؤنٹر انسر جنسی کے متعلق جرات اور بے باکی کے ساتھ برطانیہ جیوری کو اپنی موقف ترجیحات اور نصب العین سے آگاہ کیا جس کی بنیاد پربرطانیہ نے جیوری نے ان پر قائم نام نہاد مقدمات کو بلا جواز اور بے بنیاد قرار دے کر ان کو باعزت بری کرتے ہوئے بلوچ زمینی صورتحال کو تسلیم کرتے ہوئے قبضہ گیر کے بے معنی اور مجرمانہ پروپیگنڈہ پر کاری ضرب لگائی ترجمان نے کہاکہ ریاست اپنی مطلق طاقت کے استعمال کے باوجود بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو روکنے میں ناکامی کے بعداب بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکاہے ان کی جارحانہ عزائم سے بلوچ قوم دہشت زدہ ہونے کے بجائے پر عزم ہوکر آزادی کے صفحوں سے وابسطہ ہے ریاست بلوچستان میں اپنے نظر نہ آنے والے اپنے مستقبل کے لئے پریشان ہے اس لئے وہ بے بنیاد پروپیگنڈوں اور مکروہ چالوں کے ساتھ اپنے لڑکھڑاتے پوزیشن کو سہار ا دینے کی کوشش کررہی ہے لیکن ان کی تمام تر پروپیگنڈے مفروضات اور سازشین ہر محاز پر بے نقاب ہورہے ہیں ترجمان نے کہاکہ بلوچ عوام ایک شدید احساس آزادی کے ساتھ قومی جدوجہد کے دھارے میں شامل ہے انہیں ریاست کا کوئی بھی جبر آزادی کی تاریخی مشن سے دستبردار نہیں کرسکتا بلوچ عوام غلامی سے تنگ آچکے ہیں گوکہ قربانیاں آزادی کے حصول کے لئے ناگزیر طور پر ضروری ہوتے ہیں ان سے ہمیں خوف زدہ نہیں کیا جاسکتا

